عادل راشد کو ٹیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ، انگلش کپتان کا اہم بیان!

adil1792767917 0



انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے جمعرات کو سری لنکا کے خلاف ہائی اسکورنگ ون ڈے مقابلے میں عادل راشد کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے کے دفاع میں سامنے آگئے۔

فیصلے پر بات کرتے ہوئے ہیری بروک نے کہا کہ انتظامیہ نے عادل راشد کی جگہ ڈاسن کو ٹیم میں شامل کیا اور ان کے خیال میں ڈاسن شاید ہمارے بولرز میں سب سے بہتر رہے۔ انہوں نے میچ کے زیادہ تر حصے میں گیند کو اسٹمپس کے نشانے پر رکھا۔

38 سالہ عادل راشد ایک دہائی سے زائد عرصے سے انگلینڈ کی وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے لیے فرسٹ چوائس اسپنر رہے ہیں۔ جون 2015 سے اب تک انگلینڈ کے کھیلے گئے 186 ون ڈے میچز میں سے وہ 159 مقابلوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

راشد کبھی کبھار انجری کے باعث میچز سے باہر رہے ہیں، جن میں گزشتہ ستمبر میں سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے ون ڈے میچز بھی شامل ہیں۔ تاہم، اسکواڈ میں شامل ہونے کے باوجود انہیں ٹیم سے باہر بٹھانا بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل آخری مرتبہ انہیں 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فوراً بعد آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ٹیم سے باہر رکھا گیا تھا۔

انگلینڈ نے تصدیق کی تھی کہ عادل راشد راولپنڈی میں جمعرات کے میچ کے لیے مکمل فٹ اور دستیاب تھے لیکن ٹیم انتظامیہ نے حکمتِ عملی کے تحت ان کی جگہ بائیں ہاتھ کے اسپنر لیام ڈاسن کو ترجیح دی۔

عادل راشد منگل کے روز پاکستان کے خلاف کافی مہنگے ثابت ہوئے تھے اور 8 اوورز میں 55 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی تھی لیکن اس کے باوجود انہیں ڈگ آؤٹ میں ہائی وِز جیکٹ پہنے بیٹھے دیکھنا غیر معمولی منظر تھا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ