پاکستانی نژاد معروف ہارٹ سرجن ڈاکٹر آصف حسن کو برطانیہ میں بچوں کے دل کی سرجری اور پیوند کاری کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف برطانیہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ 70 سالہ ڈاکٹر آصف حسن نے حال ہی میں نیو کیسل کے فری مین ہسپتال سے 35 سالہ خدمات کے بعد ریٹائرمنٹ لی ہے۔
ایوارڈ تقریب میں ان کے سابق مریضوں کی اچانک آمد نے ماحول کو جذباتی بنا دیا۔ 19 ایسے بچے اور نوجوان، جن کی زندگیاں ڈاکٹر آصف حسن کی سرجری سے بچ گئی تھیں، اسٹیج پر ان کے ساتھ آئے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے کیریئر میں 4 ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشنز کیے، جن میں تقریباً 3 ہزار آپریشنز وہ خود بطور چیف سرجن کیے۔ ان کا تخمینہ ہے کہ انہوں نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے نیو کیسل کے ’برج ٹو ٹرانسپلانٹ‘ پروگرام میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ’برلن ہارٹ‘ نامی میکانیکل بلڈ پمپ متعارف ہوا؛ یہ آلہ بچوں کو مناسب ڈونر دل ملنے تک زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے ’بوٹ لیس کلوزر‘ نامی سرجیکل تکنیک بھی متعارف کروائی، جس سے وہ بچے بھی ڈونر دل حاصل کرسکتے ہیں جن کے لیے عام طور پر دل بہت بڑا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر آصف حسن نے برطانیہ اور بیرونِ ملک نئی نسل کے بچوں کے دل کے سرجنوں کی تربیت بھی کی۔ پرائیڈ آف برطانیہ ایوارڈز کے ججوں نے ان کی خدمات کو برطانیہ میں بچوں کے دل کی سرجری اور پیوند کاری کے شعبے میں انقلابی قرار دیا۔

