امیتابھ بچن کی رہائش گاہ کو بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی، پولیس کی تحقیقات شروع

amitabh1792778557 0



بالی ووڈ کے سینئر اداکار امیتابھ بچن کی رہائش گاہ کو بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی دھمکی سے متعلق ای میل سامنے آنے کے بعد ممبئی پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ 

یہ ای میل شہر کے باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع ایک اسکول کو موصول ہوئی، جس میں امیتابھ بچن کے علاوہ گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کا نام بھی شامل تھا۔ پولیس تاحال پیغام بھیجنے والے کی شناخت اور دھمکی کی حقیقت جاننے کی کوشش کررہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دھمکی آمیز پیغام میں امیتابھ بچن کے جوہو میں واقع بنگلے ’جلسہ‘ کا ذکر کیا گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں تھا کہ دھمکی ان کی رہائش گاہ جلسہ کے لیے ہے یا دوسرے بنگلے ’پرتیکشا‘ کے لیے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اداکار کو براہِ راست ای میل موصول ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی؛ ان کا نام ایک دھمکی آمیز پیغام میں درج تھا۔

اسی روز ممبئی کے بلدیاتی ادارے، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے دفتر کو بھی دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔ پولیس نے دفتر کی تلاشی لی، تاہم وہاں کوئی مشتبہ چیز یا مواد نہیں ملا۔ حکام کے مطابق پیغام میں ممبئی کی میئر ریتو تاوڈے کے دفتر، بعض اسکولوں اور دلجیت دوسانجھ کے 27 نومبر کو مہالکشمی ریس کورس میں ہونے والے کنسرٹ کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ 

ای میل میں امیتابھ بچن کے بنگلے پر 31 اکتوبر سے 27 نومبر کے درمیان حملے کا ذکر بھی کیا گیا۔ پولیس پیغام کے مندرجات اور بھیجنے والے کی شناخت کی جانچ کررہی ہے، جبکہ ابتدائی تلاشیوں کے دوران کوئی مشتبہ شے برآمد نہیں ہوئی۔

ممبئی میں اس نوعیت کا ایک واقعہ 20 مارچ 2026 کو بھی پیش آیا تھا، جب ممبئی پریس کلب کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمارت میں زہریلی گیس سے بھرے 42 چھوٹے بم نصب کیے گئے ہیں، جو دوپہر ایک بجے پھٹ سکتے ہیں۔ ای میل بھیجنے والے نے مبینہ طور پر خود کو نیراجا اجمل خان ظاہر کیا تھا۔ پیغام میں عمارت خالی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

اس ای میل میں بھیجنے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا اور میڈیا نے ان کی بات سننے سے انکار کیا۔ یہ تمام باتیں ای میل میں کیے گئے دعووں پر مبنی تھیں۔ پولیس اور بم ڈسپوزل ٹیموں نے پریس کلب کی تلاشی لی، تاہم کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی اور دھمکی کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔
 



Source link

متعلقہ پوسٹ