ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا اسمارٹ فون متعارف ہونے جا رہا ہے جسے خاص طور پر صارفین کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس فون کی سب سے نمایاں خصوصیت ایک فزیکل سوئچ ہے جس کی مدد سے موبائل نیٹ ورک، مائیکروفون، کیمرہ، لوکیشن اور دیگر سینسرز کو بند کیا جا سکتا ہے۔
بریکس ونک نامی یہ اسمارٹ فون بلیک بیری سے مشابہت رکھتا ہے اس میں چار انچ کی اولیڈ ٹچ اسکرین اور مکمل فزیکل کی بورڈ دیا گیا ہے جس کے ذریعے صارف آسانی سے پیغامات ٹائپ کر سکتا ہے جبکہ فون کے نچلے حصے کو اضافی بیٹری سے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے تاہم اس بیٹری ماڈیول کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
یہ فون بریکس او ایس نامی آپریٹنگ سسٹم پر چلے گا جو اینڈرائیڈ پر مبنی ہے تاہم اسے گوگل کی سروسز سے الگ رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف کو فون استعمال کرنے کے لیے گوگل اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ فون کی بیٹری جلد ختم ہونے کی 4 عام وجوہات سامنے آگئیں
کمپنی کے مطابق اس نظام کا مقصد صارفین کی سرگرمیوں کی نگرانی اور اشتہارات کے لیے ڈیٹا جمع کرنے کو محدود کرنا ہے۔ اس کا سافٹ ویئر اوپن سورس ہے جس کی وجہ سے ماہرین اس کے کوڈ کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
فون میں محفوظ رابطے کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کالز اور پیغامات کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ اس کے علاوہ ڈیٹا اونلی موڈ کے ذریعے عام فون کالز اور ایس ایم ایس بند کرکے صرف انٹرنیٹ پر مبنی کالنگ اور میسجنگ استعمال کی جا سکے گی۔
اس فون کا ایک اور خاص فیچر یہ ہے کہ غلط پاس ورڈ درج ہونے یا خصوصی خفیہ پاس ورڈ استعمال کیے جانے جیسے مخصوص حالات میں فون کا ڈیٹا خودکار طور پر مٹایا جا سکتا ہے۔

تکنیکی اعتبار سے بریکس ونک میں آٹھ کور والا میڈیا ٹیک ایم ٹی 8875 پروسیسر، آٹھ جی بی ریم اور 128 جی بی اندرونی اسٹوریج دستیاب ہوگی۔ جبکہ مائیکرو ایس ڈی کارڈ کے ذریعے اسٹوریج کو ایک ٹیرا بائٹ تک بڑھایا جا سکے گا۔
فون کے پچھلے حصے میں 50 میگا پکسل کا کیمرہ اور تار والے ہیڈفون کے لیے 3.5 ملی میٹر جیک بھی موجود ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فون کو 2032 تک سافٹ ویئر اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔
تاہم اس فون میں فرنٹ کیمرہ اور فنگر پرنٹ سینسر موجود نہیں ہیں، اس لیے ویڈیو کالز کے لیے سامنے والے کیمرے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی اور فون کھولنے کے لیے پاس ورڈ یا پن استعمال کرنا پڑے گا۔ اس کی موٹائی دس ملی میٹر جبکہ جبکہ وزن اور بیٹری ٹائمنگ کے بارے میں ابھی مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
بریکس ونک کی متوقع عام قیمت 700 امریکی ڈالر ہے تاہم جولائی 2027 میں متوقع کھیپ کے لیے اسے 449 ڈالر کی ابتدائی قیمت پر پری آرڈر کیا جا سکتا ہے۔ دوسری کھیپ کے لیے 30 ڈالر جمع کرا کے فہرست میں شامل ہوا جا سکتا ہے، لیکن اس صورت میں فون کی مجموعی قیمت 550 ڈالر ہوگی اور ڈیلیوری اگلے سال ستمبر میں متوقع ہے۔
کمپنی کے سابقہ ٹیبلٹ کی ترسیل میں تاخیر ہو چکی ہے اس لیے خریداروں کو ڈیلیوری کی تاریخ کے حوالے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
مجموعی طور پر، بریکس ونک ان افراد کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے جو اپنی ذاتی معلومات پر زیادہ کنٹرول چاہتے ہیں اور فزیکل کی بورڈ والے فون پسند کرتے ہیں۔ تاہم، کمپنی کے پرائیویسی سے متعلق دعوؤں کی مکمل تصدیق کے لیے آزادانہ سیکیورٹی جانچ اہم ہوگی۔

