سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کی رات بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ شہری دفاع کے مطابق دونوں میزائل فضا میں تباہ ہونے کے بعد ان کا ملبہ جدہ، طائف اور رابغ سمیت کئی مقامات پر گرا۔
ستمبر 2026 سے یمن کے ایران نواز حوثی سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک/کروز میزائل حملے کر رہے ہیں جن کا بنیادی ہدف جنوبی اور مغربی شہروں کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
حوثیوں کے مختلف حملوں میں سعودی عرب میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک بڑی آئل پائپ لائن کی سرگرمیاں بھی جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔
گذشتہ اتوار کو بھی نجران کے ایک رہائشی علاقے میں حوثیوں کا پروجیکٹائل گرنے سے چھ شہری زخمی ہو گئے تھے۔
#الدفاع_المدني : سقوط شظايا اعتراض صاروخين باليستيين أطلقتهما الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه منطقتي مكة المكرمة والمدينة المنورة. https://t.co/gV1ix7H29e
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 24, 2026
محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، ’مکہ اور مدینہ کے علاقوں میں شہری دفاع نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے نمٹنے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائلوں کے کچھ ٹکڑے مکہ کے باہر وادی مغمس میں بھی گرے۔
حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جن میں متعدد افراد جان سے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے آرامکو کی تنصیبات، ابہا ایئرپورٹ اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے بیشتر حملے روکے اور یمن میں حوثی پوزیشنز پر فضائی حملے کیے۔
یہ جھڑپیں ستمبر میں حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور سعودی جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں ہو رہی ہیں۔

