ڈیموکریٹس نے ٹرمپ اور ایپسٹین کے روابط پر نئی رپورٹ جاری کی، آزاد اسپیشل کونسل کا مطالبہ

Inquilab 20261027 173907 0000 d 1


واشنگٹن — امریکی ایوان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور مرحوم جیفری ایپسٹین کے مبینہ روابط اور محکمہ انصاف کے کردار سے متعلق 50 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی ہے اور معاملے کی آزاد اسپیشل کونسل سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں 11 خواتین کے بیانات شامل ہیں، جن میں سے پانچ خواتین نے ایپسٹین کی موجودگی یا قربت میں ٹرمپ پر ریپ یا جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ایپسٹین نے 1990ء کی دہائی میں نوجوان خواتین کے استحصال میں مبینہ طور پر کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں سابق مس سوئٹزرلینڈ بیٹرس کیول کا نیا الزام بھی شامل ہے۔ کیول نے کمیٹی کے عملے کو بتایا کہ نومبر 1993ء میں پلازہ ہوٹل میں منعقدہ امریکن ڈریم پیجنٹ کے دوران ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی، جب ان کی عمر 24 سال تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین نے اسی دن خود کو ’ڈان کا بہترین دوست‘ بتاتے ہوئے کیول سے رابطہ کیا اور انہیں مار-اے-لاگو کی پارٹی میں مدعو کیا۔ رپورٹ کے مطابق پیجنٹس کو کمزور خواتین کو نشانہ بنانے کی ’شکار گاہ‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ڈیموکریٹس نے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے مبینہ مفادات کے تصادم، گسلین میکسویل سے ملاقات کے طریقہ کار اور محکمہ انصاف کی مبینہ پردہ پوشی کی تحقیقات کے لیے آزاد اسپیشل کونسل کی تقرری کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ جیمی راسکن نے کہا کہ ایپسٹین کے مظالم سے بچ جانے والی خواتین کی بات سننی چاہیے اور کانگریس کو تمام متعلقہ فائلیں ملنی چاہئیں۔
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے وسط مدتی انتخابات سے قبل عوامی توجہ ہٹانے کی ’مایوس کن کوشش‘ قرار دیا۔ محکمہ انصاف نے کہا کہ اس نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت تقریباً 30 لاکھ دستاویزات جاری کیں اور قانون سازوں کو بلا ترمیم رسائی کی پیشکش کی۔
رپورٹ کا اجراء امریکی وسط مدتی انتخابات سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہوا ہے، جہاں ایپسٹین فائلوں سے نمٹنے کا معاملہ انتخابی مہم کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ