افغان طالبان کی جنوبی وزیرستان میں ’بلا اشتعال‘ گولہ باری، ایک شہری کی موت: پاکستان

399497 1274018720


خیبرپختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان پر ’بلا اشتعال‘ گولہ باری سے ایک شہری جان سے گیا اور پانچ زخمی ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان نے 27 اکتوبر کی شب جنوبی وزیرستان (لوئر) میں شہریوں کے گھروں اور انگور اڈہ بازار پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مارٹر گولہ لگنے سے ایک شہری جان سے گیا اور پانچ زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔‘

Afghan Taliban Regime fired unprovoked on civilian houses & Angoor Adda Bazar, South Waziristan (Lower), night of 27 Oct. One civilian killed, five injured by a mortar round, many shops damaged. Pakistan Forces on the border have and are responding effectively and heavily.

کابل کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی ہے جب اسلام آباد نے چند روز قبل کابل پر زور دیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کرے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ یہ عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے افغان طالبان کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بلااشتعال جارحیت‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں شہریوں کے گھروں اور لوئر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ بازار کو نشانہ بنایا گیا۔

گورنر نے پاکستانی فوج کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں‘ دی ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے ایک بیان میں کہا کہ  ’پاکستان اپنے عوام پر حملوں یا اپنی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان رواں سال سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے معاملے پر طویل عرصے سے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔

پاکستان متعدد بار افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور عسکریت پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)  کو پناہ دے رہی ہے۔

دوسری جانب کابل مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا ذمہ دار حکام بڑی حد تک تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ عسکریت پسند گروپوں کو ٹھہراتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروپ اکثر پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد ان گروپوں کے حملوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ