ایف سی ایریا کے سرکاری فلیٹ سے 65 سالہ خاتون کی تشدد زدہ گلا کٹی لاش ملی، مقتولہ کو پتھر سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گلا کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی، مقتولہ 5 بچوں کی ماں تھی۔
مقتولہ کا شوہر گزشتہ کئی سالوں سے الگ رہائش پذیر تھا، عباسی شہید اسپتال میں لیڈی ایم ایل او کی عدم دستیابی کے باعث لاش کئی گھنٹوں تک بے یارو مددگار پڑی رہی، ایم ایل او نے بھی میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق شریف آباد کے علاقے آباد ایف سی ایریا بلاک 55/15 کی رہائشی خاتون کی فلیٹ سے تشدد زدہ گلا کٹی لاش ملی، اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے بعد لاش قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کی۔
ایس ایچ او شریف آباد کے مطابق مقتولہ کی شناخت 65 سالہ فریدہ بیگم زوجہ سید محمود علی کے نام سے کی گئی، مقتول کے 4 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، مقتولہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی شادی شدہ ہیں جو الگ الگ رہتے ہیں جبکہ ایک بیٹا ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھا جبکہ مقتولہ کا شوہر گزشتہ 10/15 سال سے الگ اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مقتولہ کا بیٹا جو ساتھ رہائش پزیر تھا وہ کلفٹن میں موبائل فون کا کام کرتا تھا اور رات دیر سے گھر آتا تھا، منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے مقتولہ کا بیٹا گھر آیا تو دیکھا کہ ماں کی خون میں لت پت لاش پڑی ہوئی ہے، نامعلوم ملزمان یا ملزم نے مقتولہ کے سر اور جسم پر پتھر کے وار کیے تھے اور کٹر کے ذریعے گلا کاٹنے کی کوشش کی تھی، مقتولہ کی لاش کئی گھنٹے تک عباسی شہید اسپتال میں بے یارو مدد گار پڑی رہی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ متعدد بار ڈیوٹی پر موجود ایم ایل او سے کارروائی کروانے کی درخواست کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ایم ایل او سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے، مقتولہ کی لاش صبح تک عباسی شہید اسپتال میں موجود تھی تاہم لیڈی ایم ایل او کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
ڈیوٹی پر موجود ایم ایل او نے بھی میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا پولیس سرجن کی جانب سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ میڈیا سے کوئی بات چیت نہ کی جائے اور نہ ان کے کسی سول کا جواب دیا جائے۔
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ خاتون کی لاش بدھ کی صبح قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی، ورثا تدفین کے بعد مقدمہ درج کروانے آئیں گے۔
Source link

