
( ویب ڈیسک )دنیا بھر کا مسلسل سمندری سفر کرنے کا وعدہ کرنے والی امریکی کمپنی نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنے کروز شپ کے آپریشنز اچانک معطل کر دیے جس کے بعد جہاز میں مستقل رہائش اختیار کرنے والے مسافروں کو کمبوڈیا کے قریب جہاز سے اترنے کی ہدایت کر دی گئی۔
امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم کمپنی ولا وائی ریزیڈنسز (Villa Vie Residences) نے 27 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ اپنے رہائشی کروز شپ ولا وائی اوڈیسی (Villa Vie Odyssey) کے آپریشنز معطل کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق ایندھن کی غیر معمولی حد تک بڑھتی ہوئی قیمتوں نے موجودہ کاروباری ماڈل کے تحت جہاز چلانا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
کمپنی اپنی سروس کو ’دنیا کا پہلا مسلسل عالمی کروز سفر‘ قرار دیتی رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مسافر جہاز پر کیبن خرید کر مستقل رہائش اختیار کر سکتے تھے۔ کیبنز کی قیمت ایک لاکھ 19 ہزار 999 ڈالر سے 4 لاکھ 39 ہزار 999 ڈالر تک تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز نے ستمبر 2024 میں اپنا پہلا سفر شروع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ اقوام متحدہ پہنچ گئیں،بڑا مطالبہ کر دیا
جہاز میں مقیم ایک مسافر نے دعویٰ کیا کہ رہائشیوں کو جہاز سے اترنے کے لیے صرف سات گھنٹے دیے گئے۔ ان کے مطابق کمپنی کی چیف ایگزیکٹو نے 26 اکتوبر کی صبح 7 بج کر 8 منٹ پر پیغام بھیج کر مسافروں کو اسی روز دوپہر 2 بجے تک جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی۔
پیغام میں کہا گیا کہ مطلوبہ ایندھن حاصل نہ ہونے کے باعث اوڈیسی کے آپریشنز عارضی طور پر معطل کیے جا رہے ہیں جبکہ جہاز کی دیکھ بھال اور ضروری نظام برقرار رکھنے کے لیے عملہ اس پر موجود رہے گا۔
کیسنگھم، جو رہائشی کروزنگ ڈاٹ کام نامی بلاگ کے مصنف بھی ہیں انہوں نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو کے پیغام میں معذرت کا اظہار بھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، سفر کے دوران جہاز کو پہلے ہی متعدد مسائل کا سامنا رہا تھا۔
کمپنی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ وہ مسافروں کو جہاز سے اتارنے کے انتظامات کر رہی ہے اور ان کے لیے عارضی رہائش کے متبادل تلاش کرنے میں تعاون فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق پہلے ہر کیبن کے لیے ایندھن پر ماہانہ اوسطاً تقریباً 1,800 ڈالر خرچ ہوتے تھے تاہم حالیہ اضافے کے بعد ایشیا کے بعض علاقوں میں یہ لاگت بڑھ کر 6,000 سے 8,000 ڈالر تک پہنچ گئی۔
ولا وائی ریزیڈنسز نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل مالی نقصان برداشت کرکے آپریشنز جاری نہیں رکھ سکتی۔
کمپنی کے مطابق فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے جہاز کی رفتار گھٹائی گئی اور بندرگاہوں پر قیام کا دورانیہ بڑھایا گیا تاہم یہ اقدامات اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔
اس پیش رفت سے ان مسافروں کے مستقل رہائش اور ریٹائرمنٹ کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے جہاز پر زندگی گزارنے کے لیے بھاری رقم خرچ کرکے کیبن خریدے تھے۔ کمپنی نے آپریشنز کی معطلی کو عارضی قرار دیا ہے تاہم فراہم کردہ بیان میں دوبارہ سفر شروع کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

