انتخابی گہما گہمی عروج پر؛ امریکی وسط مدتی انتخابات میں صرف 24 گھنٹے باقی

انتخابات .webp


انتخابی گہما گہمی عروج پر؛ امریکی وسط مدتی انتخابات میں صرف 24 گھنٹے باقی

حتمی فیصلہ 3 نومبر کی شام کو سامنے آئے گا

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب صرف تقریباً 24 گھنٹے باقی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انتخابی گہما گہمی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

بول نیوز کی رپورٹ کے مطابق اتوار چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے تمام پولیٹیکل پارٹیوں کے امیدواروں نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ووٹرز کے سامنے اپنی پارٹی اور اپنا انتخابی بمنشور پیش کیا۔

موجودہ امریکی انتظامیہ کے اسلام مخالف بیانات، سخت گیر امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے علاوہ تمام دنیا بھر میں پائی جانی والی بے چینی، بدامنی اور مہنگائی کی بدولت امریکن عوام بشمول ساؤتھ ایشین کمیونٹیز اور خصوصی طور پر پاکستانی امریکنز اس دفعہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں سے سخت نالہ ہیں۔

امریکی ریاست ٹیکساس عمومی اور ڈیلس خصوصی طور پر ریپبلکن پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے مگر اس دفعہ مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار بہت زیادہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم حتمی فیصلہ تو تین نومبر کی شام کو ہی سامنے آئے گا۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانی کمیونٹی کے سوشل اور پولیٹیکل ایکٹیوسٹ تندہی سے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے لیے تقریبات منعقد کر رہے ہیں تاہم اسی سلسلے میں ڈیلس کے ایک مقامی ہوٹل میں برانچ کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے مختلف انتخابی حلقوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے حاضرین تقریب کے سامنے اپنے انتخابی منشور پیش کیا۔

تقریباً تمام امیدواروں کی جانب سے ایک ہی طرح کا منشور سامنے آیا جس میں مذہبی آزادی، غیر ضروری امیگریشن قوانین کی سخت مخالفت، غیر ضروری ٹیرف کے علاوہ دنیا میں ہونے والی غیر ضروری جنگوں کی سخت ترین مخالفت شامل ہے۔

بول نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی ایوان نمائندگان کے ڈسٹرکٹ 3 سے ڈیموکریٹک امیدوار ایون ہنٹ، پاکستانی کمیونٹی کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت وقار خان اور قاضی مجیب نے انتخابی صورتحال، پاکستانی کمیونٹی کے کردار اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ