شانگلہ: خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد تاجر تنظیموں کی احتجاجی کال خاموش ہوگئی، ڈویژن بھر کے تاجر اور لاکھوں عوام وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع شانگلہ، سوات، اپر سوات، بونیر، ملاکنڈ، باجوڑ، اپر دیر، لوئر دیر، اپر چترال اور لوئر چترال میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف سیاسی، سماجی اور تجارتی حلقوں کی حلقے سراپا احتجاج ہیں، انجمن تاجران، ہوٹل ایسوسی ایشنز، بارگینز مالکان، ٹرانسپورٹرز، ماربل انڈسٹری اور دیگر کاروباری تنظیموں نے مشترکہ طور پر ٹیکسوں کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں اجلاسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے علاوہ7 اکتوبر کو سوات ایکسپریس وے ٹول پلازہ اور چکدرہ انٹرچینج پر بھی احتجاج کیا گیا تھا اور اس کے بعد شاہراہ قراقرم کو بند کر کے درنہ دینے کا اعلان تھا تاہم صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ رہا۔
وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی سے اس مسئلے کے حل کی امید وابستہ امید لگائے بیٹھے ہیں تاہم تاحال کوئی ایسا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس سے عوامی تحفظات دور ہوسکیں۔
دوسری جانب صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد احتجاجی سرگرمیاں مؤخر ہونے سے ٹیکس مخالف تحریک کی رفتار بھی متاثر ہوئی ہے، عوامی حلقوں نے وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یکم جولائی سے نافذ ٹیکسوں کے خاتمے، ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور عوامی بے چینی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔.

