پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس صوبہ خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام نے جمعرات کو اس کیس کی تصدیق ایسے وقت میں کی ہے جب ملک بھر میں لاکھوں بچوں کو اس معذوری کا سبب بننے والی بیماری سے بچانے کے لیے ویکسی نیشن مہم جاری ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق پولیو کا تازہ کیس ضلع خیبر میں سامنے آیا جس کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد سات ہو گئی ہے جبکہ باقی دو کیسز صوبہ سندھ میں رپورٹ ہوئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔
این ای او سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک پولیو کے نو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔‘
پولیو کے نئے کیس کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو شروع ہونے والی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم جاری ہے۔
اس مہم کے دوران ضلع خیبر سمیت ملک کے 97 منتخب اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل این ای او سی نے بتایا تھا کہ انسدادِ پولیو مہم کے پہلے تین دنوں میں ہیلتھ ورکرز ایک کروڑ 96 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا چکے ہیں۔
یہ مہم آٹھ نومبر تک جاری رہے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت جاری یہ رواں سال کی پانچویں بڑی انسدادِ پولیو مہم ہے جس میں دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے ہیں۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تاہم ویکسی نیشن کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو طویل عرصے سے غلط معلومات، بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار اور انسدادِ پولیو ٹیموں پر حملوں جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے خصوصاً ان علاقوں میں جو عسکریت پسندوں کے تشدد سے متاثر ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں ملک میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز سامنے آتے تھے۔
یہ اعداد و شمار گذشتہ تین دہائیوں کے دوران پولیو کیسز میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
صحت کے حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور بچوں کی معمول کی ویکسینیشن بھی مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کروائیں۔
این ای او سی نے کہا ’معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔‘

