سینیٹ قائمہ کمیٹی نے گیس کمپنیز کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو دی گئی رائلٹی کی تفصیلات مانگ لیں

senate standing committee petrolium1793978698 0



کراچی:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے وزارتِ پیٹرولیم سے گیس کمپنیز کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو ملنے والی رائلٹی کی تفصیلات طلب کرلیں، سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ اگلے اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم، سندھ حکومت کے محکمہ خزانہ اور محکمہ توانائی، سینیٹ کمیٹی کو پچھلے 20 سال میں ملنے والی ساری رائلٹی کی تفصیلات پیش کریں۔

پی آئی ڈی اعلامیے کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو کی سربراہی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر قرۃ العین مَری، اسپیشل سیکرٹری برائے وزارتِ توانائی نصیرالدین مشہود، ایم ڈی ایس ایس جی سی امین راجپوت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سکھر نے شرکت کی جبکہ رکن قومی اسمبلی ذوالفقار ستار باچانی، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد، وائس چیئرمین اوگرا شہزاد اقبال، آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی کے افسر سکندر علی شیخ، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن سے قادر خان، ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز (وزارتِ پیٹرولیم) کے اعلیٰ افسر نے آن لائن شرکت کی۔

اجلاس میں سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کی طرف سے فراہم کردہ معلومات میں دس برس کی کُل رائلٹی بتائی گئی لیکن تفصیلات نہیں دی گئیں، ہمیں تفصیل سے بتائیں کہ پروڈکشن کتنی بنتی ہے، اس کے حساب سے کُل رائلٹی کتنی ہے۔ انہوں نے او جی ڈی سی ایل کے افسر کو ہدایت دی کہ آپ کے چیف فنانشل آفیسر کی طرف سے رائلٹی کی تمام تفصیلات ہمیں فراہم کی جائیں۔

اس موقع پر سینیٹر قرۃ العین مَری نے معاملہ اٹھایا کہ او جی ڈی سی ایل پروڈکشن بونس نہیں دیتی کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔

سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے او جی ڈی سی ایل سے استفسار کیا کہ آپ کو کس قانون کے تحت استثنیٰ حاصل ہے جس پر او جی ڈی سی ایل کے نمائندے نے بتایا کہ 1990 سے 1993 تک جن فیلڈز کی پروڈکشن تھی، اس میں او جی ڈی سی کو ڈائریکٹوریٹ آف پیٹرولیم کنسیشنز نے استثنیٰ دیا تھا۔ 1997 تک او جی ڈی سی کی ملکیت وفاقی حکومت کے پاس تھی، اس کے بعد یہاں شیئرز آگئے، بعد ازاں جتنی فیلڈز دریافت ہوئیں ان میں پروڈکشن بونس دیا گیا ہے۔

سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز کے افسر سے سوال کیا کہ رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم کہاں جاتی ہے؟ کیا رائلٹی کا تخمینہ اصل پروڈکشن کے ساتھ لگایا جاتا ہے؟ اِس کا میکنزم کیا ہے؟ پروڈکشن کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ 12.5 فیصد رائلٹی دینی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او جی ڈی سی پروڈکشن بونس پر استثنیٰ کی دعوے دار ہے، یہ استثنیٰ انہیں کس قاعدے قانون کے تحت ملا ہے؟ 

ڈی جی پی سی کے نمائندے نے جواب دیا کہ گیس کمپنیز رائلٹی کی رقم نیشنل بینک میں حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع کراتی ہیں، یہ معلومات ہم وفاقی محکمہ خزانہ کو بھی بھیجتے ہیں، فنانس ڈویژن کُل رقم کا دو فیصد کلیکشن چارجز کی مد میں منہا کرتا ہے اور جس صوبے سے جتنا شیئر آتا ہے اسے 15 دن میں متعلقہ صوبے کو منتقل کردیتا ہے، ڈی جی پی سی کرتا ہے ان اعداد و شمار کا تخمینہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز ماہانہ بنیادوں پر لگاتا ہے جبکہ آڈٹ بھی کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل پروڈکشن بونس سے مستثنیٰ اس لیے ہے کہ ان کا سانگھڑ میں سنجورو بلاک ہے، اس پر 1997 میں پیٹرولیم کنسیشن معاہدہ ہوا تھا۔ سنجورو بلاک میں اس رعایت کا اطلاق صرف او جی ڈی سی ایل پر ہوتا ہے، باقی ساری کمپنیز پروڈکشن بونس کی ادائیگی کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ کمیٹی سے کو جمع کرائیں گے، اس میں 15 سال کی رائلٹی کی تفصیلات بھی کمیٹی کو دیں گے۔

سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ جب سے او جی ڈی سی ایل یہاں 1995 سے آپریٹ کررہا ہے، تب سے اب تک کی کُل پیداوار کا ڈیٹا اور رائلٹی کی تفصیلات بھی ہمیں فراہم کی جائیں، ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن بونس تو سی ایس آر کی ایک قسم ہے، اس پر او جی ڈی سی ایل کو کیا اعتراض ہے؟ ان پیسوں سے متعلقہ علاقوں کے عام لوگ مستفید ہوتے ہیں، کہیں اسکول کھولا جاتا ہے، کہیں اسپتال، آپ اربوں روپے کی اس رقم پر اعتراض کررہے ہیں جو عوام پر خرچ ہوسکتی ہے۔

ایم این اے ذوالفقار باچانی نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹنڈو الہیار میں یونائیٹڈ انرجی پیٹرولیم اور او جی ڈی سی ایل تیل اور گیس تلاش کرتی ہیں، ان کے 5 کلومیٹر کے حلقے میں تیل اور گیس کے کنویں موجود ہیں لیکن اب تک کوئی سروے نہیں ہوا، علاوہ ازیں انہوں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سروے کے دوران چھوٹی ملازمتیں متعلقہ ضلع کے مقامی افراد کو ملنی چاہئیں۔

چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے اسپیشل سیکرٹری پیٹرولیم سے کہا کہ اگر اس متعلق قانون موجود ہے کہ ایک مقررہ تعداد میں نوکریاں بالخصوص نان ٹیکنیکل آسامیاں مقامی افراد کو دی جائیں تو اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اسپیشل سیکرٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ نان ٹیکنیکل آسامیوں میں مقامی افراد کو ہی ترجیح دی جاتی ہے، انہیں کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی (سی ایس آر) کے ذریعے باقاعدہ ٹریننگز کرائی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد مطلوبہ معیار پورا کریں اور ملازمت حاصل کرلیں۔

سینیٹر قرۃ العین مری نے ایس ایس جی سی حکام سے کہا کہ آپ نے بتایا کہ 31 گاؤں میں لائنیں بچھائی جائیں گی، گوبی فیلڈ کے اردگرد 31 نہیں اس سے چار گنا زیادہ گاؤں ہیں، اس علاقے کی رکن منتخب اسمبلی کو ہی معلوم نہیں تھا کہ کن 31 گاؤں میں لائنیں بچھائی جارہی ہیں، تو کس سے مشاورت کی جارہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ساڑھے 500 گاؤں کی فہرست ہے جو 5 کلومیٹر حلقے میں آتے ہیں، مجھے نہیں معلوم کون سے گاؤں میں لائن بچھانے کا فیصلہ ہوا کون سے میں نہیں۔  ایم ڈی ایس ایس جی سی نے جواب دیا کہ لائن بچھانے کا کام وفاقی حکومت سے ملنے والے فنڈز پر منحصر ہے، فنڈز ملنے میں تاخیر کی وجہ سے کام زیرِالتوا ہے۔

 جام سیف اللہ دھاریجو نے اجلاس کے شرکا کو یاد دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ 20 برس قبل وزیراعظم نے ہدایت دی تھی کہ اس 5 کلومیٹر میں موجود تمام علاقوں میں گیس فراہم کی جائے گی، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا تھا، عدالت نے سختی سے حکم دیا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ اور ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہیار کو ہدایت دی کہ وہ سوئی سدرن اور منتخب اراکین اسمبلی سے رابطے میں رہیں اور لائنیں بچھانے کے کام میں پیش آنے والے مسائل حل کریں۔

ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے سینیٹر سیف اللہ دھاریجو کی طرف سے ضلع میں تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیز کے سی ایس آر فنڈز اور ان سے ہونے والی سرگرمیوں کے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ یہاں دو کمپنیز مری انرجی اور او جی ڈی سی ایل تیل اور گیس دریافت کررہی ہیں، او جی ڈی سی ایل کی طرف سے سی ایس آر کی مَد میں 2019 کے بعد سے فنڈنگ رہی ہے، اس سے قبل وہ اپنے لیول پر ہی کام کررہے تھے، 2019 کے بعد سی ایس آر فنڈز آنا شروع ہوئے، دو فیزز ہمارے سی ایس آر چل رہے ہیں، ایک ماڑی انرجیز اور دوسری بہت ساری کمپنیز سوشل ویلفیئر فنڈ میں حصہ ڈالتی ہیں، دو فیزز جاری ہیں، تھرڈ فیز پر کام جلد شروع ہونے والا ہے، علاوہ ازیں او جی ڈی سی ایل کے علاقے میں گیس فراہمی کے حوالے سے 125 گاؤں آتے ہیں، اب تک 11 میں کام مکمل ہوا ہے جبکہ ڈہرکی میں مری انرجیز کے علاقے میں 159 گاؤں ہیں جن میں سے 23 میں گیس فراہم کی جاچکی ہے۔ 

چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے ڈی سی گھوٹکی سے کہا کہ او جی ڈی سی ایل نے وزیراعظم کے ہدایت کے مطابق ایک ووکیشنل اسکول کھولا تھا، حکومت ختم ہوئی تو اسکول بند کردیا گیا، ہم نے او جی ڈی سی ایل کو ہدایت دی ہے کہ آپ نیا ووکیشنل اسکول بنائیں کیونکہ جس علاقے سے گیس نکلتی ہے وہاں فنی تعلیم و تربیت کا ادارہ ہونا ضروری ہے، قادر پور، گھوٹکی یا عادل پور میں تین چار ایکڑ اراضی او جی ڈی سی ایل کو دیں تاکہ یہ وہاں اسٹیٹ آف دی آرٹ ووکیشنل اسکول تعمیر کریں۔

اوگرا کے افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایل پی جی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ملاوٹ کی شکایت آئی تھی، اوگرا کی انفورسمنٹ ٹیم نے پنوعاقل میں ضلعی انتظامیہ ساتھ کارروائی کی تھی، کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرقانونی تنصیبات تھیں، انہیں سیل کیا گیا، ٹینکس کو ضبط کیا تھا، اخبار میں اشتہار کے ذریعے ہیلپ لائن نمبر جاری کرکے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ گیس ملاوٹ کی اطلاع فوری طور پر اوگرا کو دی جائے۔

سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ آپ اپنی انفورسمنٹ کی استعداد بڑھائیں، آپ کے قانون میں اتنے سقم ہیں گرفتار افراد کو تین دن میں ضمانت مل جاتی ہے اور ان کا ضبط شدہ سامان بھی واپس کردیا جاتا ہے، انہوں نے ایڈیشنل کمشنر سکھر اور ڈی سی گھوٹکی کو ہدایت دی کہ گیس میں ملاوٹ کرنے والے گرفتار ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، یہ پوری مافیا ہے۔۔





Source link

متعلقہ پوسٹ