(ویب ڈیسک) غزہ میں سردیوں کے موسم کی بارشوں سے پہلے بحیرہ روم میں طوفان کے زیر اثر تیز بارشیں آ گئیں۔ طوفانی بارشوں سے دسیوں ہزار خیمے زیرِ آب آ گئے؛ بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں شدید طوفان چل رہا ہے جس کے اثرات زمین پر غزہ کی پٹی کے کئی علاقوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں: ’یہ تو ابھی پہلا دن ہے اور ہم پہلے ہی شدید مشکلات میں گھر چکے ہیں‘؛ اسرائیل کے ساحلی علاقوں میں بھی بحیرہ روم طوفان کے سبب سیلابی صورتحال ہے اور بجلی کی بندش کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

جمعہ کی رات اور ہفتے کے روز مشرقی بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں موسمِ سرما کے طوفانوں نے دستک دی، جس کے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشوں نے غزہ کی پٹی میں قائم خیمہ بستیوں کو ڈبو دیا اور دسیوں ہزار خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے آ گئے۔
اسرائیل کے ساحلی علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے کئی شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور سڑکیں بند ہو گئیں۔ سرکاری حکام نے خبردار کیا ہے کہ لوگ اچانک سیلاب (flash floods) کے خطرے والے علاقوں سے دور رہیں۔
جنگ سے تباہ شدہ غزہ میں، رہائشیوں نے شدید مشکلات کا اظہار کیا کیونکہ بارشوں کے باعث 70 ہزار سے زائد خیمے زیرِ آب آ گئے۔ اس صورتحال سے بے گھر ہونے والے دسیوں ہزار افراد متاثر ہوئے اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
حماس کے زیر انتظام ’سول ڈیفنس ایجنسی‘ نے بتایا کہ انہیں بے گھر ہونے والے رہائشیوں کی جانب سے مدد کے لیے 1,500 کالز موصول ہوئیں۔ ایجنسی کے مطابق، تین خالی مکانات بھی گر گئے، لیکن خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
غزہ شہر میں قائم ایک خیمہ بستی میں، کچھ لوگ اپنے خیموں کی مرمت کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے، جبکہ دیگر نے خیموں کو مضبوط بنانے اور پانی کو اندر آنے سے روکنے کے لیے ریت کا استعمال کیا۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو پانی سے بھرے خیموں سے باہر نکالنے میں مصروف تھے۔

غزہ کی رہائشی خاتون، الفت مجدوب نے اپنے خیمے سے پانی باہر نکالنے کی ناکام کوشش کی۔
ہفتہ 7 نومبر 2026 کو وسطی غزہ کی پٹی کے علاقے دیر البلح میں، شدید بارش کے بعد ایک بے گھر فلسطینی بارش سے بھیگے ہوئے خیموں کے کیمپ سے گزر رہا ہے۔
اس خاتون نے کہا، "یہ بارش کا پہلا دن ہے، اور ظاہر ہے کہ ہم پہلے ہی پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ اگر اگلے دن پھر بارش ہوئی تو کیا ہوگا؟ یہ تو ابھی پہلا ہی دن ہے اور ہم پہلے ہی شدید مشکلات میں گھر چکے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیئے: مدینہ منورہ میں موسلادھار بارش سے موسم بدل گیا، ویڈیوز وائرل
45 سالہ ام محمد الحرش نے بتایا، "دو ہفتے پہلے جب بارش ہوئی تھی، تو خدا کی قسم، مجھے چار دن تک فرش پر بچھائے گئے کمبلوں پر سونا پڑا کیونکہ بارش کا پانی بستروں میں گھس گیا تھا۔ اب بھی وہی صورتحال ہے، گدے بھیگ چکے ہیں، اس لیے ہمیں زمین پر سونا پڑ رہا ہے۔ ہم گدوں کو نہیں بچا سکے اور سارے کپڑے بھی بھیگ گئے۔ ہر موسم سرما میں ہماری یہ تکالیف دہرائی جاتی ہیں۔”
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں دیر البلح میں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے والی 34 سالہ مریم عودہ ن کا بھی ذکر ہے۔ ان خاتون نے کہا، "اب ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنے بچوں کی حفاظت کیسے کریں۔ میرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آج رات ہم کہاں سوئیں گے، اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔”

41 سالہ خالد النجار نے مزید کہا، "ہمیں اپنے بچوں کے لیے نہ صرف خیموں میں پانی بھر جانے کا ڈر ہے، بلکہ شدید سردی اور بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بیماریوں کا بھی خوف ہے۔”

فلسطینی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ "ایک ایسا المیہ جنم لے چکا ہے جو لاکھوں رہائشیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے،” اور انہوں نے بیماریوں اور وباؤں کے پھیلنے کے خدشے کی نشاندہی کی۔ اس اتحاد نے، جس میں درجنوں مقامی ادارے اور تنظیمیں شامل ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ ”اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ انسانی امداد کو بغیر کسی پابندی کے داخل ہونے کی اجازت دے۔“


