اسلام آباد (15 مارچ 2026)
پاکستان نے سرکاری پنشن نظام میں اصلاحات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے 50 کروڑ ڈالر (140 ارب روپے) کا نیا قرض لینے کی تجویز دے دی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام نے یہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضہ عوامی شعبے کے پنشن سسٹم کو مالی طور پر مستحکم اور شفاف بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مجوزہ پروگرام کا نام “Transforming Public Sector Pension Program” رکھا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پنشن کے بڑھتے ہوئے واجبات سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنا، ڈھانچہ جاتی اصلاحات لانا اور اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔
وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل اب 1,055 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ نئے قرضے کے ذریعے پنشن اخراجات پر کنٹرول حاصل کرنے اور مستقبل کے مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات موجودہ ڈیفائنڈ بینفٹ اسکیم سے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن ماڈل کی طرف منتقلی، جدید آئی ٹی سسٹم، بہتر گورننس، مانیٹرنگ اور رپورٹنگ سمیت اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور مالی خواندگی کو فروغ دیں گی۔
یہ قرض ADB کے عام سرمایہ کاری وسائل سے فراہم کیا جائے گا۔ پروگرام فی الحال تجویز کے مرحلے میں ہے اور یہ حکومت کی عوامی مالیات کو جدید بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک پہلے بھی پاکستان کے پنشن نظام کی جدید سازی کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر چکا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اصلاحات ملک کے معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں اور طویل مدتی مالی شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔

