تہران،
ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور ۱۱؍جولائی سے پاکستان میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ سعودی میڈیا العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ دور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگا، اور اس میں ایران پر عائد پابندیوں، منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بدھ کے روز دوحہ میں ہوئے تھے، جنہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تعمیری قرار دیا۔ دوحہ مذاکرات کے بعد ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ منجمد اثاثوں میں سے کچھ ارب ڈالر بحال کرنے پر اتفاق ہوا، تاہم امریکہ نے اس دعوے کی تردید کی۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا واضح موقف
ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر عائد ہوتی ہے اور کسی بھی بیرونی فوجی نقل و حرکت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ جہاز رانی یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ضرورت پڑنے پر کثیرالقومی فوجی مشن پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ۸ تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔ یاد رہے کہ ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں اسرائیل یا امریکہ سے منسلک جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
فلسطینی کاز کی حمایت جاری رہے گی
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تہران خطے میں امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

