وسطی افریقی جمہوریہ میں کیمرون کی سرحد کے قریب غیر قانونی سونے کی کان زمیں بوس ہونے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سونے کی کان بیٹھنے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور لاپتا بھی بتائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افسوس ناک حادثہ نانا مامبیرے صوبے کے زامبوئے گاؤں میں پیش آیا، جو بابوا قصبے سے تقریباً 50 کلومیٹر دور اور کیمرون کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔
مقامی حکام کے مطابق کان میں اچانک زمین کھسکنے اور زیرِ زمین سرنگوں کے منہدم ہونے سے درجنوں افراد مٹی تلے دب گئے۔
ریڈ کراس کے رضاکاروں اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری ریسکیو کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی مرحلے میں درجنوں لاشیں نکالی گئیں، تاہم بعد ازاں امدادی ذرائع نے تصدیق کی کہ مرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے اور کئی زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے، متاثرین کی شناخت اور ممکنہ غفلت یا مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں تعاون کا یقین دلایا ہے، جبکہ کیمرون کی جانب سے بھی طبی امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وسطی افریقی جمہوریہ میں ہزاروں افراد چھوٹے پیمانے پر غیر منظم سونے کی کانوں میں کام کرتے ہیں جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کے باعث لوگ خطرات کے باوجود ایسی کانوں کا رخ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مہلک حادثات بار بار رونما ہوتے رہتے ہیں۔
افریقی خطے میں کان کنی کے ایسے حادثات نئی بات نہیں۔ رواں سال جون میں وسطی افریقی جمہوریہ کے کونییمے سونے کے مقام پر مٹی کا تودہ گرنے سے کم از کم 8 کان کن ہلاک ہوئے تھے، جبکہ مئی 2026 میں اسی صوبے کے ایک اور کان کنی کے مقام پر شافٹ گرنے سے 23 افراد جان سے گئے تھے۔
اس سے قبل 2013 میں نڈاسیما سونے کی کان کے انہدام سے کم از کم 37 اور 2014 میں اسی مقام پر ایک اور حادثے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

