ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی بہن کو اُن کے شوہر نے اپنے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر انتہائی بے دردی سے قتل کیا ہے اور ’انھیں شبہ ہے کہ مقتولہ کو پہلے زہریلی چیز دی گئی اور پھر اذیت دے کر قتل کیا گیا۔‘
فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ ان کے بہنوئی ’آئے روز مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور اس سے قبل ملزم کی پہلی اہلیہ نے بھی تشدد کی وجہ سے تنگ آ کر طلاق لے لی تھی۔‘
مقتولہ حنا جاوید کی کزن صباح ملک اور بھابھی نے بول نیوز سے خصوصی گفتگو میں اہم انکشافات کیے۔
حنا جاوید کی کزن صباح ملک نے بتایا کہ حنا جاوید ایک خودمختار، پُراعتماد، کیریئر اورینٹڈ اور زندگی سے بھرپور خاتون تھیں، وہ گزشتہ 15 برس سے قومی اسمبلی میں خدمات انجام دے رہی تھیں اور اپنے کیریئر کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ تھیں۔ ان کے کیریئر میں حال ہی میں ترقی ہوئی تھی، چند روز قبل فون پر خوشخبری بھی خاندان سے شیئر کی تھی۔
صباح ملک کا کہنا تھا کہ حنا جاوید انتہائی نرم دل، محبت کرنے والی اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے والی شخصیت تھیں وہ اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور روزانہ بھابھی کے ہمراہ ان سے ملنے جاتی تھیں شادی نومبر 2025 میں ہوئی، شادی کے بعد حنا پہلے کی نسبت خاموش اور اپنے اندر سمٹ گئی تھیں۔
صباح ملک نے بول سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد حنا جاوید کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی آئی، خاندان نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا، اہلخانہ بار بار حنا سے پوچھتے کہ کیا وہ خوش ہیں، وہ جواب دینے کے بجائے بات تبدیل کر دیتی تھیں۔
دوسری جانب حنا جاوید کی بھابھی کا کہنا تھا کہ حنا گزشتہ 9 سے 10 ماہ سے روزانہ میرے ساتھ والدین کے گھر آتی تھیں، اس کے رویے سے کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کسی پریشانی میں ہیں۔
بھابھی کے مطابق حنا سے شادی شدہ زندگی کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ خاموش ہوجاتیں یا بات تبدیل کردیتی تھیں، ان کی شادی ارینج میرج تھی، شادی کے بعد حنا نے خاندان کے سامنے کسی بڑی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ درج کر کے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم گرفتار کو گرفتارکر لیا گیا تاہم سسر تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔
اہلخانہ نے مطالبہ کیا حنا جاوید کے سسر کو مزید تاخیر کے بغیر گرفتار کرکے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حنا جاوید ایک بیٹی، بہن اور دوست تھیں، ان کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی، ہم الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان نے کیا کھویا ہے، حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات کسی اثر و رسوخ، دباؤ یا تاخیر کے بغیر مکمل شفافیت سے کی جائیں پاکستان کے قانونی اور عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے، انصاف ضرور ہوگا خواتین پر تشدد ایک جرم ہے، اسے جرم ہی سمجھ کر اسی کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

