اسرائیلی فوج کی آشیرباد میں فلسطینی شہدا کی یادگار منہدم؛ قرآنی آیات کی بیحرمتی

israeli mp vendolized martyred monoment in westban1787676505 0


مغربی کنارے میں اسرائیل کے سخت گیر یہودی رکن پارلیمنٹ زوی سوکوت نے فوج کی سیکیورٹی میں فلسطینی شہدا کی یادگار کو ہتھوڑے مار کر منہدم کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے میں جارحیت پسند یہودی آبادکاروں اور سخت گیر دائیں بازو کی جماعت کے رکن اسمبلی کی نفرت آمیز کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے ہی ایک واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکن پارلیمان زوی سوکوت اور ان کے ساتھی بڑے ہتھوڑے اٹھائے شہدا یادگار پر ضربیں لگا رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوجی بھی قریب کھڑے ہیں۔

پہلے یہ ویڈیو فلسطینی میڈیا نے جاری کیی تھی جس پر رکن اسمبلی نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ویڈیو کو خود بھی شیئر کیا کیوں یہ سب اسرائیلی فوج کی آشیرباد میں کیا گیا تھا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے مؤقف اپنایا کہ زوی سوکوت نے 12 اگست کو مغربی کنارے کے دیہات بیتا، بورین اور مادما میں یادگاروں کے ’معائنے‘ کے لیے اجازت طلب کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ علاقے مغربی کنارے کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں اسرائیلی شہریوں کا فوجی رابطہ کاری کے بغیر داخلہ ممنوع ہے۔

اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ دورہ فوجیوں کی سیکیورٹی میں کرایا گیا جس کے لیے علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں کو اپنی معمول کی ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا تھا۔

وڈیو وائرل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا کہ رکن اسمبلی اور ان کے ساتھیوں نے منظور شدہ دورے کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گمراہ کن اور جوڑ توڑ پر مبنی طریقے سے یادگار کو توڑنا شروع کردیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے یہ عمل دیکھا تو اپنے کمانڈروں کو اطلاع دی جنہوں نے فوری طور پر دورہ ختم کرنے اور سوکوت و ان کے ساتھیوں کو گاؤں سے باہر نکالنے کی ہدایت کی۔

شہدا یادگار کن فلسطینیوں سے منسوب ہے؟

مادما کی یہ یادگار اسرائیل جنگ میں شہید ہونے والے مقامی فلسطینیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی جن میں یمان طیب علی فرج کا نام بھی ہے جنھیں اسرائیل حکام 2003 میں خودکش حملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی رکن اسمبلی نے یادگار کو توڑتے ہوئے کہا کہ اس میں شادی ناصر بھی شامل ہیں جو 2002 میں مغربی کنارے کی اسرائیلی بستی کے ایک ہوٹل میں خودکش حملے میں ملوث تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے سے جاری روایتی بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص، خصوصاً سرکاری عہدہ رکھنے والے فرد کا قانون اپنے ہاتھ میں لینا ناقابل قبول ہے۔

بیان میں واقعے کی مذمت کیے بغیر کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں فوج ہی خودمختار اتھارٹی اور سیاسی قیادت کے فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہے۔

البتہ اپوزیشن رہنما اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے شہدا یادگار کو منہدم کرنے کے واقعے کو شرمناک قرار دیا گیا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ فوج اور اس کے کمانڈروں کو گمراہ کیا گیا سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا اور اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔

سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ عملی اقدامات سے کیا جاتا ہے اشتعال انگیز حرکات سے نہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے بھی کہا کہ مغربی کنارے میں ایسی یادگاریں منہدم کرنے کا اختیار صرف ریاست، فوج اور سکیورٹی فورسز کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ رکن اسمبلی نے جولائی میں مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکول کے سائن بورڈ کو ہتھوڑے مار کر توڑا تھا اور اسکولوں میں فلسطینی اتھارٹی کے نصاب پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ