تہران: امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اور تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے اعلان پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی یہ کوشش بھی ’’ناکامی سے دوچار ہونے والی ہے۔‘‘
جمعہ کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف پہلے بھی سخت ترین پابندیوں اور ’’میکسیمم پریشر‘‘ کی پالیسیاں اپنائی جا چکی ہیں، مگر وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔ انہوں نے لکھا: ’’۱۴؍ سال پہلے: تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں۔ ناکام۔ ۸؍ سال پہلے: زیادہ سے زیادہ دباؤ۔ ناکام۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ۵؍ ماہ قبل ایران سے ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ بھی ناکام ہو چکا ہے، اور اب صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ بھی اسی انجام سے دوچار ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف نئی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اسے کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے اپنی پالیسی کو ’’غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی‘‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کو مالی سہارا دینے والے تمام ذرائع ختم کرے گا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر ان ممالک کو خبردار کیا جو ایران کے لیے اقتصادی ’’لائف لائن‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، جن کے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک سے اس مہم میں شمولیت کی اپیل کرتے ہوئے اسے ’’اکنامک ڈی-ڈے‘‘ کا نام دیا۔
عراقچی نے اپنے بیان کے ساتھ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ۲۰۱۲ء میں اس وقت کے امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے بیان کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں ایران پر عائد پابندیوں کو ’’پابندیوں کی تاریخ کی سب سے تباہ کن‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ عراقچی نے اسی تاریخی پس منظر کو موجودہ امریکی پالیسی کی ناکامی کے اپنے مؤقف کی بنیاد بنایا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اقتصادی دباؤ ایک بار پھر واشنگٹن کی حکمت عملی کا مرکزی محور بن گیا ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ اس طرح کی مہمات پہلے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں۔

