
(ویب ڈیسک )نیپال اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی علاقے میں گلیشیئر کا نچلا حصہ اچانک ٹوٹ کر سیکڑوں میٹر نیچے وادی میں جاگرا، جس کے بعد برف، چٹانوں اور مٹی کے بڑے تودے نے تباہ کن لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کو جنم دیا۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ نیپال میں ایک ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گلیشیئر کے نچلے حصے کے وادی میں گرنے سے برف اور چٹانوں کا ایک بڑا ریلا بنا، جو لینڈے کھولا دریا کے راستے تیزی سے نیچے کی جانب بڑھا، یہ ملبہ بعد میں تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہوگیا۔
شدید رفتار سے آنے والے ملبے نے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں راستے میں آنے والی سڑکوں، انفراسٹرکچر اور آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ چینی حکام کے مطابق برف اور چٹانوں سے بننے والا ملبے کا ریلا تقریباً 50 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آگے بڑھا اور اس کا پھیلاؤ 20 کلومیٹر سے زیادہ تھا۔
چین کے علاقے تبت میں واقع گییرونگ پورٹ بھی اس تباہ کن ملبے کی زد میں آگیا۔ نگرانی کے کیمروں میں ریکارڈ ہونے والی ویڈیوز میں ایک بڑے بھورے رنگ کے ملبے اور کیچڑ کے ریلے کو پہاڑی وادی سے انتہائی تیزی سے نیچے آتے اور پورٹ کی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ کمی ! معروف کمپنی کو تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا لگ گیا
نیپال میں امدادی ٹیمیں ملبے سے بھرے وادیوں اور پہاڑی علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ابتدائی طور پر بعض نیپالی حکام نے گلیشیئر کے اچانک گرنے کی ممکنہ وجہ علاقے میں آنے والے زلزلے کو قرار دیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جس زلزلے کی اطلاع دی گئی تھی، وہ دراصل گلیشیئر کی چٹان اور برف کے گرنے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہونے والی زلزلی توانائی تھی۔
سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اس واقعے سے قبل اور بعد کی صورتحال میں نمایاں فرق ظاہر کیا ہے۔ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ لینگ ٹانگ لیرونگ چوٹی کے قریب موجود گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔
گلیشیئر کے گرنے کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے پہاڑی وادیوں سے گزرتے ہوئے دریاؤں کے راستے بھی تبدیل کردیئے۔ اطلاعات کے مطابق پانی کا بہاؤ ہمالیہ سے تقریباً 4,500 میٹر بلندی سے نیچے اترتے ہوئے 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اثر انداز ہوا اور بھارتی سرحد کے قریب علاقوں تک دریا کے چینلز میں تبدیلی دیکھی گئی۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ، تباہ شدہ راستے اور بڑے پیمانے پر پھیلا ملبہ ریسکیو ٹیموں کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
قدرتی آفت نے ایک بار پھر ہمالیہ کے بلند علاقوں میں گلیشیئرز اور اچانک آنے والے برفانی و ملبے کے سیلاب سے پیدا ہونے والے خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔

