تہران— ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار 30 اگست کو خطے بھر کے مسلم ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تحریری پیغام مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد جاری کیا گیا۔
واضح رہے کہ خامنہ ای نے 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر اپنے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے فوراً بعد سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا، اور تب سے وہ عوامی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ایرانی حکام نے تاحال نئے سپریم لیڈر کی کوئی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی۔
اپنے اتوار کے پیغام میں، جو شیعہ مسلمانوں کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی ولادت کی مناسبت سے جاری کیا گیا، خامنہ ای نے اسلامی ممالک کے مابین اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: "اسلامی ممالک کے مسائل کا حل قولِ واحد، اخوت، اور نیکی کے راستے پر تعاون ہے۔ کوئی بھی، کسی بھی عہدے پر، جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور مسلم معاشرے میں تنازع پیدا کرنے والا کوئی کام کرے — چاہے جان بوجھ کر یا نادانستہ، ارادی یا غیرارادی — اس نے اسلام کے دشمنوں کا مقصد پورا کیا۔”
خامنہ ای نے علاقائی ممالک کے حکمرانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اصل دشمن کی نشاندہی کریں اور اس کی حکمت عملی کے خلاف مزاحمت کریں، ان کے بقول: "اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کے منصوبے کو سمجھیں اور اس کا سامنا کریں” — جس سے مراد امریکہ اور اسرائیل تھے۔
واضح رہے کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران نے مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف حملے کیے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، کویت، قطر اور بحرین میں موجود مقامات شامل تھے۔ ان حملوں نے تہران اور ان میں سے کئی ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ کرنے میں کردار ادا کیا، جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
خامنہ ای، جو ایران کی بڑی ریاستی پالیسیوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں، نے ایرانی حکام اور عوام کے مابین زیادہ اتحاد کا بھی مطالبہ کیا اور انہیں اسرائیل و امریکہ کا سامنا کرتے ہوئے داخلی اختلافات ایک طرف رکھنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا: "ایک بار پھر، ایرانی عوام کو نصیحت ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے درمیان اختلافات پیدا نہ ہونے دیں۔ میں پختہ اعلان کرتا ہوں کہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی عمل ممنوع ہے۔”
اپنے بیان میں خامنہ ای نے ایرانی معیشت کی بتدریج ڈی ڈالرائزیشن کا بھی مطالبہ کیا اور معاشی ترقی مضبوط بنانے کے لیے زیادہ ملکی پیداوار پر زور دیا۔ ان کا یہ معاشی پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران برسوں کی امریکی پابندیوں کے اثرات کے ساتھ ساتھ مہینوں سے جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے، جس نے ملک بھر میں معاش اور معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

