تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان پرعزم، پانی کو ہتھیار نہیں بنانا چاہیے: شہباز شریف

398149 270672447


وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اور اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے انڈیا کا نام لیے بغیر کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔

کرغزستان کے شہر بشکیک میں منگل کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اسی جذبے کے تحت اس سال کے آغاز میں اس وقت امن کی بھرپور حمایت کی جب ایس سی او کے ایک رکن ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک بڑا علاقائی بحران پیدا ہوا۔

سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان پر وزیراعظم کے خطاب سے متعلق جاری تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ اس بحران کے باعث توانائی کی فراہمی کے اہم راستوں کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔

’اس کے نتیجے میں پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھاری اقتصادی قیمت چکانا پڑی۔ ان مشکل حالات میں پاکستان نے مسلسل ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا۔‘

پاکستان نے ایس او کی سربراہی سنبھال لی

پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی سربراہی سنبھالنے کے موقع پر وزیرِ اعظم نے ایک لائحۂ عمل بھی تجویز کیا جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت میں کمی، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت اہم شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے ذمہ دارانہ اور جامع مصنوعی ذہانت کے فروغ اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے، ایک ’ایس سی او خودمختار مصنوعی ذہانت بنیادی ڈھانچہ اور طرزِ حکمرانی فریم ورک‘ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کی پاکستانی سربراہی کا موضوع ’تصور سے عمل تک، روابط، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘ ہوگا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ ذمہ داری امید اور پختہ یقین کے ساتھ قبول کرتا ہے کہ روابط ہمارے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لائیں گے، جدت نئے مواقع کے دروازے کھولے گی اور مشترکہ خوشحالی ہر گھر تک پہنچے گی۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم اور دیگر رہنماؤں نے ایس سی او اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں کتنے ممالک شامل ہیں؟

شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چین، روس اور چار وسطی ایشیائی ریاستوں نے ایک سکیورٹی فورم کے طور پر قائم کی تھی۔

گذشتہ 25 برسوں میں اس کا حجم اور اثر و رسوخ تو بڑھا ہے، تاہم اس کے اہداف اور پروگرام اب بھی کسی حد تک غیر واضح ہیں اور عالمی سطح پر اس کی شناخت محدود ہے۔

اب اس تنظیم میں 10 ممالک شامل ہیں: روس، چین، انڈیا، ایران، پاکستان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ممالک ’ڈائیلاگ پارٹنر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یاداشت، امن کی بحالی کی جانب اہم قدم

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’ہماری مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ممکن ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں اور پاکستان اس پورے عمل کے دوران برادر اور دوست ممالک کی غیر متزلزل حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے لیے سب سے مؤثر اور قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ