پگھلتے گلیشیئر، ڈوبتا مستقبل: گلگت بلتستان خبردار کر رہا ہے!

glaciers melting gilgit baltistan1788379622 0


دنیا آج موسمیاتی تبدیلی کو مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج سمجھ رہی ہے، لیکن اگر اس عالمی بحران کا کوئی خطہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے تو اس میں گلگت بلتستان نمایاں ہے۔

یہ وہ خطہ ہے جہاں برف پوش پہاڑ، وسیع گلیشیئرز اور گلیشیئر جھیلیں صرف قدرتی حسن کا حصہ نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی، زراعت، پانی اور معیشت کا بنیادی سہارا ہیں۔ پاکستان میں 7,253 گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں سے باہر کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے اس قدرتی نظام کا توازن تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے یعنی GLOF کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 3,044 گلیشیئر جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں 33 کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف عدد نہیں بلکہ ان وادیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہیں۔

گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں رہنے والے لوگ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کتابوں میں نہیں بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔

کہیں پانی کے بہاؤ کا انداز بدل رہا ہے، کہیں اچانک سیلاب آبادیوں، فصلوں اور رابطہ سڑکوں کو متاثر کر رہا ہے، کہیں گلیشیئر جھیلوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور کہیں پانی کی دستیابی خود ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق گلگت بلتستان کے تقریباً 95 فیصد کسان آبپاشی کے لیے برف اور گلیشیئر کے پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

دنیا اس خطرے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ عالمی ادارے اور ماہرین ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے خطے کو ایشیا کے آبی نظام کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ حالیہ عالمی مباحث میں یہ خدشہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ آنے والے عشروں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے وقتی طور پر دریاؤں میں پانی بڑھ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں برف کے ذخائر کم ہونے سے پانی، زراعت اور خوراک کے تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ گلگت بلتستان کو صرف سیاحت، قدرتی حسن یا ملکی معیشت کے ایک ممکنہ شعبے کے طور پر دیکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔ اب اسے قومی موسمیاتی سلامتی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کے گلیشیئر صرف وہاں کے لوگوں کے نہیں، دریائے سندھ کے پورے نظام اور بالآخر پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے پانی سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ پاکستان نے GLOF-II جیسے منصوبوں کے ذریعے خطرے سے دوچار علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام اور کمیونٹی کی استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

عالمی ادارے بھی مقامی آبادی کے ساتھ مل کر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات اس رفتار کے مطابق ہیں جس رفتار سے موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی Climate Resilience Policy بنائی جائے۔ خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی مسلسل نگرانی، جدید وارننگ سسٹم، محفوظ مقامات پر آبادیوں کی منصوبہ بندی، مضبوط پلوں اور سڑکوں کی تعمیر، پانی کے ذخیرے، مقامی لوگوں کی تربیت اور گلیشیئرز پر مسلسل سائنسی تحقیق اس پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے۔

اس کے ساتھ پاکستان کو عالمی سطح پر بھی اپنا مقدمہ زیادہ مضبوط انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ جن ممالک کی صنعتی سرگرمیوں اور کاربن اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں بڑا کردار ادا کیا ہے، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی کا نقصان صرف اعداد و شمار میں نہیں ہوتا۔

گلگت بلتستان کے کسی گاؤں میں جب سیلاب گھر، فصل، پل یا پانی کا نظام بہا لے جاتا ہے تو اس نقصان کے پیچھے ایک خاندان کی پوری زندگی ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان آج دنیا کو ایک خاموش پیغام دے رہا ہے۔ پہاڑ خاموش ہیں، گلیشیئر بھی چپ ہیں، لیکن ان میں آنے والی تبدیلی ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ صرف گلگت بلتستان کا نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے پانی، زراعت، خوراک اور معیشت تک اس کے اثرات پہنچیں گے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے گلیشیئرز کو صرف سیاحوں کے کیمروں میں محفوظ کرنے کے بجائے قومی بقا کے ذخیرۂ آب کے طور پر دیکھیں۔ کیونکہ ان گلیشیئرز کا پگھلنا صرف برف کا پگھلنا نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا پگھلنا ہے۔


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ