وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمداسماعیل راہو نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں مبینہ رشوت ستانی، مالی بے ضابطگیوں اور ایک افسر کی جانب سے بیک وقت دو سرکاری ملازمتیں رکھنے کی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری طور پر تفصیلی اور جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبائی وزیر نے رشوت ستانی اور مالی بے ضابطگی کے حوالے سے سامنے آنے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سرکاری جامعات میں کرپشن، رشوت ستانی، مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری اداروں میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
محمد اسماعیل راہو نے بالخصوص گریڈ 17 کے افسر آغا عدنان احمد کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات اور مبینہ ویڈیو کلپس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
صوبائی وزیر کو موصول ہونے والی شکایات کے مطابق آغا عدنان احمد کے بارے میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ وہ بیک وقت دو سرکاری ملازمتیں کرتے رہے ہیں اور بیک وقت دو سرکاری نوکری کرنا قانوناً جرم ہے ، جبکہ یونیورسٹی میں انسپکٹر کالجیٹ کی اضافی ذمہ داری کے دوران مبینہ طور پر مختلف کالجز کو یونیورسٹی سے الحاق (Affiliation) دلوانے کے معاملات میں اضافی رقوم وصول کرنے اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔ تاہم ان تمام الزامات کی حتمی حیثیت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
صوبائی وزیر نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ آغا عدنان احمد کی دونوں سرکاری ملازمتوں، تقرریوں، حاضری، تنخواہوں، مراعات، تعیناتی کے احکامات اور ایک ہی وقت میں دو سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کی قانونی حیثیت کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بطور انسپکٹر کالجیٹ ان کے دور میں یونیورسٹی سے الحاق حاصل کرنے والے کالجز کی مکمل فہرست، الحاق کے لیے وصول کی جانے والی سرکاری فیس، متعلقہ ریکارڈ اور شکایات میں بیان کردہ مبینہ اضافی وصولیوں کی بھی مکمل چھان بین کی جائے۔
محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں دو سرکاری ملازمتیں رکھنے، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت ستانی یا مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ افسر کے خلاف قانون، سروس رولز اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے تحت سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے وائس چانسلر بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کو ہدایت کی کہ تحقیقات کی پیش رفت سے محکمہ جامعات و تعلیمی بورڈز کو مسلسل آگاہ رکھا جائے اور مقررہ مدت میں تمام متعلقہ ریکارڈ سمیت جامع تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے۔
صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کی سرکاری جامعات میں مالی و انتظامی بے ضابطگیوں، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، اور کسی بھی فرد کو اس حوالے سے رعایت نہیں دی جائے گی۔

