قرآنِ کریم ضابطہ حیات بھی ہے اور چشمہ ہدایت بھی ہے ، یہ فطرت کے مناظر کو اللہ کی نشانیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔ کلامِ الہی میں "جنت” کا لفظی مطلب ہی ‘ایسا باغ’ ہے جو اپنی گھنی ہریالی کے باعث زمین کو ڈھانپ لے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ باغات، چشموں، پھلوں اور گھنی شاخوں کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ انسان کا تخیل ایک پرسکون اور سبز وادی میں جا گزیں ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:”اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کی نباتات نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی (سور الانعام ) قرآن میں زیتون، کھجور، انگور اور انار کا تذکرہ محض خوراک کے حوالے سے نہیں بلکہ یہ نباتاتی حسن اور قدرت کے توازن کی علامتیں ہیں۔ قرآن کریم نے جنت کی تصویر کشی کرتے ہوئے "تجری من تحتھا الانھار” (جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی) کہہ کر ہریالی اور پانی کے اس حسین امتزاج کو انسانی روح کی آخری منزل قرار دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہریالی ہر دور میں روح کی غذا اور کائنات کی ضرورت رہی ہے۔ آج کی سیمنٹ زدہ دنیا میں جہاں جنگلات کا کٹا ؤ اور فضائی آلودگی ایک ناسور بن چکی ہے قرآنی تعلیمات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں درخت لگانا صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کی ہریالی کا تحفظ دراصل انسانی بقا کا تحفظ ہے۔ جب ایک بیج زمین کا سینہ چاک کر کے باہر نکلتا ہے تو وہ رب کی صفتِ "حی” کا اعلان کرتا ہے۔ باغات اور ہریالی کا ذکر قرآن میں صرف دنیاوی نعمت کے طور پر نہیں آیا بلکہ یہ انسان کے اندر شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ گھنے سائے والے درخت ( ظل ممدود ) اور جھکے ہوئے لبالب پھلوں کے خوشے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کائنات کسی بے حس قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نہایت شفیق اور جمیل خالق کی تخلیق ہے۔
ہریالی کائنات کا وہ سبز لباس ہے جس کے بغیر یہ دنیا ایک بے روح ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں باغات کا تذکرہ دراصل انسان کو اس فطرت کی طرف لوٹنے کی دعوت ہے جس سے وہ کٹ چکا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک پودے کی آبیاری دراصل کائنات کے حسن کی آبیاری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک سانس لیتی ہوئی زمین پر قدم رکھیں تو ہمیں قرآنی تصورِ باغات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہوگا یعنی زمین کو سرسبز بنانا اور اس کی رعنائیوں کی حفاظت کرنا۔ ہریالی صرف زمین کا زیور ہی نہیں بلکہ یہ خالق کی رحمت کا وہ سایہ ہے جو ہمیں تپتی ہوئی زندگی میں سکون اور زندگی کا پیغام دیتا ہے۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں ایک خوبصورت دین دیا ہے جو زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام بہت خوبصورت دین اور مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسانوں کے حقوق بلکہ چرند، پرند اور نباتات کے تحفظ کا بھی علمبردار ہے۔ شجر کاری (درخت لگانا) اسلام میں محض ایک دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک عظیم الشان عبادت، صدقہ جاریہ اور سنتِ نبویﷺ ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کائنات کو تخلیق کیا اور اسے متوازن رکھنے کے لیے پہاڑ، دریا اور جنگلات کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے۔ درخت زمین کا زیور ہیں اور انسانی زندگی کی بقا کا لازمی جزو ہیں۔ اسلام کی نظر میں شجر کاری ایک ایسا عمل ہے جس کا فائدہ انسان کی وفات کے بعد بھی اسے ملتا رہتا ہے۔ ا سلامی تعلیمات کے مطابق شجر کاری ان اعمال میں سے ایک ہے جس کا ثواب کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جب تک کسی انسان کا لگایا درخت زمین پر موجود رہتا ہے اور اس سے مخلوقِ خدا فائدہ اٹھاتی رہتی ہے تب تک لگانے والے کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہتی ہیں۔
صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کھیتی کی پھر اس میں سے کسی پرندے، انسان یا چوپائے نے کھایا تو وہ اس لگانے والے کے لیے صدقہ شمار ہوگا۔” اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی جانور بھی اس درخت کے سائے میں بیٹھتا ہے یا اس کا پتہ کھاتا ہے، تو اس کا اجر لگانے والے کو ملتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے شجر کاری کی اہمیت کو اس قدر اجاگر کیا کہ اسے قیامت کی آمد جیسے سنگین لمحات سے بھی جوڑ دیا۔ آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا ایک پودا ہو تو اگر وہ اس بات پر قادر ہو کہ اسے لگانے سے پہلے قیامت قائم نہ ہو تو اسے ضرور لگا دینا چاہیے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مبارکہ ہمیں پیغام دیتی ہے کہ مسلمان کو کبھی بھی مایوسی کا شکار ہو کر تعمیری کام نہیں چھوڑنا چاہیے۔ درخت لگانا آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحفہ ہے چاہے لگانے والا خود اس کا پھل نہ کھا سکے۔
آج کی دنیا "گلوبل وارمنگ” اور ماحولیاتی آلودگی سے نبرد آزما ہے جبکہ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ان مسائل کا حل شجر کاری کی صورت میں پیش کر دیا تھا۔ درخت نہ صرف آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:”اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ ڈال دیے اور اس میں ہر طرح کی نباتات ایک مقررہ مقدار (توازن) کے ساتھ اگائیں۔” (سور الحجر: 19)۔ اس آیت سے نبابات اور شجر کاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ا سلام ایک طرف دنیا کو امن اومان کا گہوار بنانے کی ترغیب دیتا ہے تو دوسری طرف اسلام فساد فی الارض یعنی زمین میں بگاڑ سے بھی منع کرتا ہے۔اسی طرح اسلام ایک طرف درخت لگانے اور اگانے کی ترغیب دیتا ہے تو دوسری طرف ہمارا دین جنگلات کی کٹائی اور ماحول کو بھی خراب کرنے سے منع کرتا ہے۔ اسلام میں شجر کاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی، جہاں انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہوتا ہے ، تلواریں چل رہی ہوتی ہیں ، ٹینک اور جہاز بمباری کررہے ہوتے ہیں۔ راکٹ لانچر چل رہے ہوتے ہیں ، مانئیں پھٹ رہی ہوتی ہیں ، لوگ زخمی ہو رہے ، کٹ رہے اور مر رہے ہوتے ہیں ، کشتوں کے پشتے لگ رہے ہوتے ہیں ، ان حالات میں بھی اسلام درختوں کو کاٹنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب اسلامی لشکر کو روانہ فرماتے تو ہدایات دیتے: پھل دار درختوں کو نہ کاٹنا، کھیتیوں کو نہ جلانا اور آبادیوں کو ویران نہ کرنا۔” یہ احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام نباتاتی زندگی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور اسے انسانیت کا مشترکہ اثاثہ سمجھتا ہے۔ ذخیرہ احادیث میں بے شمار ایسی احادیث موجود ہیں جن سے شجر کاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ‘سبحان اللہ وبحمدہ وسبحان اللہ العظیم ‘ کہتا ہے، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ( ترمذی)۔اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ذکر الہی پر درخت ملتا ہے، تو عملی طور پر زمین پر درخت لگانے والے کے لیے اللہ کے ہاں کتنا بڑا مقام ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگاتا ہے، پھر وہ جتنا پھل دیتا ہے، اللہ تعالی اس کے برابر اس شخص کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔شجر کاری ایک ایسا عمل ہے جس صرف دینی فوائد ہی نہیں بلکہ کے سماجی اور معاشی فوائد بھی ہیں۔ ایک پھل دار پودا جب تناور درخت بنتا ہے تو وہ معاشرے کو درج ذیل فوائد دیتا ہے۔ وہ لوگوں کیلئے رزق کا ذریعہ بنتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پھل دار درخت انسانوں اور پرندوں کی غذا کا ذریعہ ہیں۔ درخت مسافروں اور جانوروں کے لیے ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔درخت اقتصادی استحکام کا ذریعہ بنتا ہے۔ یعنی لکڑی، گوند، اور ادویات کے حصول سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔درخت لگانے سے زمینی کٹا ؤ کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرتی ہیں۔
کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقا اور ماحولیاتی توازن براہِ راست درختوں اور جنگلات سے وابستہ ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی آبادی اور شہرکاری کے رجحان نے جہاں ایک طرف انسانی سہولیات میں اضافہ کیا ہے وہیں دوسری جانب فطرت کے حسن اور توازن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ دور میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے شجر کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں ( جیسے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ) کے مطابق، کسی بھی ملک کے کل زمینی رقبے کا کم از کم 25 سے 30 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ یہ وہ تناسب ہے جو اس خطے کے موسم کو معتدل رکھنے، زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے اور جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ تناسب 5 فیصد سے بھی کم ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے درختوں کا تناسب بے حد ضروری ہے اس لیے کہ ایک بالغ درخت اوسطاََ اتنی آکسیجن پیدا کرتا ہے جو دو سے چار افراد کی ضرورت پوری کر سکے۔ جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا ہے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا، گنجان آباد شہروں میں شجر کاری کا تناسب دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہونا چاہیے تاکہ "اربن ہیٹ آئی لینڈ” (Urban Heat Island) کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہر شہری کے حصے میں کم از کم 10 سے 15 درخت آنے چاہئیں تاکہ ماحول میں آکسیجن اور کاربن کا توازن برقرار رہے۔
درخت نہ صرف آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ زمین کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام بھی کرتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جس سے زمین کا کٹا ؤ رکتا ہے اور سیلاب کی شدت میں کمی آتی ہے۔گھنے درخت اپنے ارد گرد کے درجہ حرارت کو 2 سے 8 ڈگری سیلسیس تک کم کر سکتے ہیں، جس سے بجلی کے استعمال مثلا اے سی میں کمی آتی ہے۔جنگلات سے ہمیں لکڑی، پھل، ادویات اور دیگر خام مال حاصل ہوتا ہے جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، ہمیں "شجر کاری” کو محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ سمجھنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جنگلات کے تحفظ کے سخت قوانین بنائے اور خالی اراضی پر شجر کاری کو لازمی قرار دے۔ عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی میں کم از کم پانچ پودے لگائے اور ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی لے۔
زمین کا رقبہ محدود ہے اور آبادی لامحدود رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم نے آج شجر کاری کے درست تناسب پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے اور زمین کی بقا کا واحد راستہ بھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زمین کو ہرا بھرا بنا کر اسے ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت بنائیں۔بارشوں اور درختوں کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں تباہی مچا رہی ہیں۔ ہر سال لاکھوں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ ان حالات میں شجر کاری ایک قومی فریضہ بن چکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر فرد کم از کم ایک پودا لگائے اور اس کی پرورش کی ذمہ داری لے۔ اپنے بچوں کو درختوں کی اہمیت سے روشناس کروائیں۔ صدقہ جاریہ کی نیت سے عوامی مقامات، مساجد اور قبرستانوں میں درخت لگائیں۔
اگر ہم مذہبی نقطہ نظر سے اس صورت حال کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام میں شجر کاری محض ایک زرعی سرگرمی یا ماحولیاتی تبدیلی کیلئے ہی نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی نشانیوں کی حفاظت اور اس کی مخلوق کی خدمت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ایک درخت لگانا گویا ایک زندگی کی آبیاری کرنا ہے۔ اگر ہم سنتِ نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے شجر کاری کو اپنا شعار بنا لیں، تو نہ صرف ہماری زمین سرسبز و شاداب ہو جائے گی بلکہ ہمیں آخرت میں بھی اس کا دائمی اجر نصیب ہوگا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو ہرا بھرا بنائیں گے تاکہ اللہ کی یہ زمین ہم سب کے لیے امن اور تندرستی کا گہوارہ بن سکے۔ n

