بھوپال کے حضور سے بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما نے جنم اشٹمی کے موقع پر منعقد ایک مٹکی پھوڑ مقابلے کے دوران کہا کہ ’کروند چوراہے سے میزائل چھوڑو تو قاضی کیمپ میں جا کر گرے۔‘ قاضی کیمپ بھوپال کا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ بعد میں شرما نے کہا کہ وہ بھوپال کی نہیں اسلام آباد کے علاقے کی بات کر رہے تھے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ موہن یادو سرمایہ کاری سے متعلق دورے پر یو اے ای گئے ہوئے ہیں۔
بھوپال کے حضور سے بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)
بھوپال: مدھیہ پردیش کے بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما کےبھوپال میں دیے گئے ایک بیان پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ شرما نے اتوار (6 ستمبر) کو جنم اشٹمی کے موقع پر کروند علاقے میں منعقد مٹکی پھوڑ مقابلے کے دوران کہا کہ’کروند چوراہے سے میزائل چھوڑو تو قاضی کیمپ میں جا کر گرے۔‘
بھوپال کا قاضی کیمپ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ بیان سامنے آنے کے بعد تنازعہ بڑھنے پر بھوپال کی حضور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے شرما نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مراد بھوپال کے قاضی کیمپ سے نہیں، بلکہ اسلام آباد کے قاضی کیمپ سے تھی۔
تاہم، بیان پر تنقید کرنے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ایسا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر سرچ کرنے پربھی اسلام آباد میں ایسی کسی جگہ کے موجود ہونے کی جانکاری نہیں ملتی ہے۔
مذکورہ پروگرام کے دوران شرما نے ہندو ایکتا، راشٹرواد، پاکستان اور دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے کئی دیگر تبصرے بھی کیے۔ انہوں نے کہا،’ملا اور مولویوں کو بتا دو، جب تمہیں گنگا کا پانی پینا پڑتا ہے، جب اس سرزمین کا تم گیہوں کھاتے ہو، جب تم یہاں کا نمک کھاتے ہو، ارے کچھ تو سدھر جاؤ۔ اتنی بے ایمانی کیوں کرتے ہو؟ مادر وطن کی وندنا بھی کرنی چاہیے۔ بتاؤ، کرنی چاہیے کہ نہیں؟ اگر تم اشفاق اللہ خان بنو گے تو ہم تمہیں سلام کریں گے۔ اگر تم اے پی جے عبدالکلام بنو گے تو ہم تمہیں میزائل بنانے والے کے طور پر سلام کریں گے۔ اگر تم دہشت گرد بنو گے تو ہم تمہیں اس طرح گھسیٹ کر ختم کریں گے کہ دوبارہ کوئی دہشت گرد پیدا بھی نہیں ہو پائیں گے۔‘
اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور سرجیکل اسٹرائیک کا ذکر کرتے ہوئے شرما نے کہا،’مودی جی نے سرجیکل اسٹرائیک کی۔ جب ہندوستان میں لوگ کہتے تھے کہ سوئی بنانا نہیں جانتے، تو مودی جی نے کہا کہ ہم میزائل بنائیں گے۔ جیسے تم کروند کے چوراہے پر کھڑے ہو کر میزائل لگاؤ اور قاضی کیمپ پر گرا دو۔‘
اس کے فوراً بعد انہوں نے کہا،’ویسے ہی، ارے، میں نے یہاں کا قاضی کیمپ نہیں بولا، اسلام آباد والا بولا تھا۔‘
شرما نے دہشت گردی اور پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا،’جب ہمارے (یہاں) دہشت گردوں نے حملہ کیا، جب ہماری معصوم بہنوں کا سیندور اڑانے کی کوشش کی، تو ہم نے دہشت گردوں کے باپ -دادا یا ابا- ابی، سب کو بتا دیا کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ اور وہ زیادہ دنوں میں نہیں، 48 گھنٹوں میں آئے گا۔ ‘
انہوں نے مزید کہا،’زمین ہماری ہوگی، میزائل ہمارا ہوگا اور بم تمہارے دروازے پر گرے گا۔‘
’اسلام آباد میں ہوں گےمٹکی پھوڑ مقابلے ‘
پروگرام کے دوران شرما نے ہندو ایکتاکو مٹکی پھوڑ مقابلے سے آگے لے جانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہندو معاشرے کو مختلف سطحوں پر متحد رہنا چاہیے۔
پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب لاہور، ڈھاکہ اور اسلام آباد میں بھی مٹکی پھوڑ مقابلے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مٹکی پھوڑنے کے لیے پہلے وہاں کی ’مٹکی‘ پھوڑنی پڑے گی۔
کانگریس نے کارروائی کا مطالبہ کیا
شرما کے بیان پر کانگریس نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے میڈیا کوآرڈینیٹر عباس حفیظ نے دی وائر سے کہا کہ حکمراں جماعت کے ایم ایل اے کی جانب سے ایک عوامی پروگرام میں اپنے ہی شہر کی ایک بستی کا نام لے کر وہاں میزائل گرانے کی بات کرنا ایک سنگین معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’میرا پہلا سوال یہ ہے کہ حکمراں جماعت کے ایک بی جے پی ایم ایل اے ایک ہندو برادری کے پروگرام میں اپنے ہی شہر کی ایک بستی کا نام لے کر کہتے ہیں کہ یہاں سے میزائل چھوڑو گے تو وہاں جا کر گرے گی۔ اس کے بعد جب انہیں لگا کہ ان کے بیان پر سوال اٹھ رہے ہیں اور پورا معاملہ طول پکڑ رہا ہے، تو انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد کے قاضی کیمپ کی بات کر رہے تھے۔ جبکہ اسلام آباد میں قاضی کیمپ نام کی کوئی جگہ ہے ہی نہیں۔‘
حافظ نے وزیراعلیٰ سے حکومت کا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا،’وزیراعلیٰ صاحب کو واضح کرنا چاہیے کہ اس بیان پر حکومت کا کیا موقف ہے۔ کیا وزیراعلیٰ اپنے ہی شہر میں ایک بستی کو نشانہ بنا کر میزائل داغنے کی بات کرنے والے اپنے ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کریں گے یا نہیں؟‘
حافظ نے وزیراعلیٰ کے بیرون ملک دورے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اس وقت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہیں اور وہاں سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا،’ایسے میں اس طرح کے بیانوں کا سرمایہ کاروں پر کیا اثر پڑے گا؟ اگر ہم مشرق وسطیٰ کے ممالک سے سرمایہ کاری کی امید کر رہے ہیں تو وزیراعلیٰ کو اس معاملے میں ایسی کارروائی کرنی چاہیے جو ایک مثال قائم کرے، تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے آنے والے لوگوں اور برادریوں کے تئیں حکومت کا رویہ مثبت اور محفوظ ہے۔‘
کانگریس کے ترجمان ابھینو برولیا نے بھی شرما کی تقریر پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اسے اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پلیٹ فارم سے اس طرح کی بیان بازی معاشرے میں تفرقہ پیدا کرتی ہے۔
کانگریس کے ترجمان راہل راج نے سوشل میڈیا پر شرما کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا،’ایک طرف سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت جی کہتے ہیں کہ ’مسلمانوں سے نفرت کرنے والا ہندو ہو ہی نہیں سکتا‘، دوسری طرف بی جے پی کے ایم ایل اے بھوپال کے قاضی کیمپ پر میزائل داغنے کی بات کرتے ہیں۔ یہی بی جے پی اور سنگھ کا حقیقی دوہرا کردار ۔ ‘
एक तरफ संघ के सरसंघचालक मोहन भागवत जी कहते हैं “मुसलमानों से नफरत करने वाला हिंदू हो ही नहीं सकता”, दूसरी तरफ भाजपा विधायक भोपाल के काजी कैंप पर मिसाइल दागने की बात करते हैं।
यही है भाजपा और संघ का असली दोहरा चरित्र।
रामेश्वर शर्मा जी जैसे व्हाट्सऐप यूनिवर्सिटी से इतिहास-भूगोल… pic.twitter.com/ieCrAH74Ri
— Rahul Raj | राहुल राज (@rahulraj_kisaan) September 6, 2026
انہوں نے مزید لکھا،’رامیشور شرما جی جیسے وہاٹس ایپ یونیورسٹی سے تاریخ اور جغرافیہ پڑھنے والوں کو بتا دیں کہ پرتھوی، اگنی جیسی میزائلوں کی بنیاد ملک میں کئی دہائیاں پہلے ہی رکھی جا چکی تھی۔ اگنی کا پہلا کامیاب تجربہ 22 مئی 1989 کو راجیو گاندھی کے وزیراعظم رہتے ہوئے ہو چکا تھا، جبکہ مودی جی 2014 میں آئے ہیں۔ اور اسلام آباد میں قاضی کیمپ نام کی کوئی جگہ ہے ہی نہیں، اس لیے بھوپال شہر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی آپ کی ذہنیت بے نقاب ہو چکی ہے۔‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’اب نریندر مودی جی اور موہن یادو جی یہ بتائیں کہ کیا اس اشتعال انگیز تقریر کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟‘
وزیراعلیٰ سرمایہ کاروں کو مدعو کر رہے ہیں
شرما کے بیان پر تنازعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیراعلیٰ موہن یادو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دورے پر ہیں۔ سوموار کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقداے آئی ایم کانگریس-2026 میں انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہندوستان کی وسیع گھریلو مارکیٹ کے مرکز میں واقع ہے اور مضبوط رابطہ کاری، ترقی یافتہ صنعتی بنیاد اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیوں کی وجہ سے تیزی سے ملک کی اہم صنعتی ریاستوں میں اپنی شناخت بنا رہا ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو ہر سطح پر انتظامی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگی۔
شرما کے متنازعہ بیانوں کی تاریخ
بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما اس سے پہلے بھی اپنے بیانوں کی وجہ سے تنازعات میں رہے ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کے تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد ’لاہور میں بیٹھے ملا اور مولوی بھی وندے ماترم بولیں گے۔‘
اسی سال راج گڑھ میں ایک انتخابی جلسے کے دوران انہوں نے کانگریس رہنما دگوجئے سنگھ کو شکست دے کر انہیں ’سرحد پار اسلام آباد بھیجنے‘ کی بات کہی تھی۔
جون 2026 میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) پر بحث کے دوران بھی شرما کے ایک بیان کو لے کر تنازعہ پیدا ہوا تھا، جس میں انہوں نے مسلم خاندانوں اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے تبصرہ کیا تھا۔
دریں اثنا، موجودہ بیان کے حوالے سے شرما سے ردعمل حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
شوریح نیازی بھوپال میں مقیم آزاد صحافی ہیں ۔

