معاشی نمو کی رفتار پر کابینہ کے 2 ارکان کے مختلف موقف

gdp1789684461 0



اسلام آباد:

حکومت کے 2اہم کابینہ ارکان نے جمعرات کو معاشی نمو کے حوالے سے مختلف موقف اختیار کیے، نجکاری کے مشیر نے بہتر حکمرانی کو بلند شرح نمو سے مشروط قرار دیا، جبکہ وزیر خزانہ نے ایک بار پھر مالیاتی استحکام کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنے پر زور دیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 کے نویں ایڈیشن کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے معاشی ترقی کے وقت اور رفتار کے حوالے سے مختلف خیالات کا اظہار کیا۔

محمد علی نے کہا کہ ’’جب تک ہم ترقی نہیں کریں گے، گورننس بہتر نہیں بنا سکتے۔‘‘

انھوں نے بلند شرح نمو کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان وزیر خزانہ کی جانب سے مالیاتی استحکام کی پالیسیوں کے تسلسل کے مؤقف کے چند منٹ بعد سامنے آیا۔

ان پالیسیوں کے باعث 2022 سے ملک کی شرح نمو 4 فیصد سے کم رہی ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ نظام کو بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی، کیونکہ عوام کو اپنے چھوٹے مگر جائز مسائل کے حل کی امید میں سرکاری دفاتر کے کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ مضبوط مالیاتی اور بیرونی مالیاتی بفرز ملکی و بیرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔

تاہم محمد علی نے کہا کہ استحکام منزل نہیں بلکہ ترقی اصل مقصد ہے۔ ان کے مطابق معاشی شرح نمو آبادی میں اضافے کی شرح سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے۔

دونوں حکومتی نمائندوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک کا معاشی ماڈل کھپت پر مبنی نہیں ہونا چاہیے، تاہم محمد علی نے کہا کہ ترقی کے حصول کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ بتدریج برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے متعین ہونا چاہیے۔

نٹ شیل گروپ کے چیئرمین اظفر احسن نے کہا کہ معاشی استحکام حاصل تو کر لیا گیا ہے، لیکن یہ پائیدار نہیں اور حکومت دراصل زوال کو مؤثر انداز میں منظم کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ملک کے اندر دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی سمت واضح اور مستقل رکھنا ہوگی،محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی معیشت اب بہتر پوزیشن میں ہے اور موجودہ مالی سال میں بھی بہتری کا عمل جاری ہے۔

ان کے مطابق مقصد اس استحکام کو بنیاد بنا کر زیادہ پائیدار اور پیداواری معاشی ماڈل کی طرف بڑھنا ہے، جس میں کھپت پر مبنی چکروں کے بجائے برآمدات اور سرمایہ کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

تاہم چند روز قبل سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات سے استثنیٰ دینے کی اجازت دی تھی، جس سے بالخصوص توانائی کے شعبے کی کمپنیوں کو درپیش مالیاتی خطرات چھپنے کا خدشہ ہے۔

وزیر خزانہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں اضافے کے معاشی نمو اور مہنگائی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے پاس اکتوبر کے اختتام تک ایندھن کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل نومبر کے لیے ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جنگ کے ممکنہ دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کے پیش نظر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ