لاہور: سابق پاکستانی آف اسپنر توصیف احمد کی جانب سے سابق آف اسپنر اور کوچ ثقلین مشتاق پر شاداب خان کو قومی ٹیم میں شامل کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات کے بعد کرکٹ حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
ایک پوڈ کاسٹ میں توصیف احمد نے ثقلین مشتاق پر الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ اپنے داماد اور موجودہ انٹرنیشنل کرکٹر شاداب خان کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے فون کرتے تھے اور مختلف ذرائع سے دباؤ ڈالتے تھے کہ شاداب خان کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔
توصیف احمد جو سالہا سال سیلیکشن کمیٹی کے رکن رہے ہیں اور ایسے رکن جن کے لیے پی سی بی کے ایک سابق عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ انہیں ٹیم منتخب کرکے لاہور سے فیکس کردی جاتی تھی اور وہ اس پر بنا کسی اعتراض یا ترمیم کے دستخط کردیتے تھے بنیادی طور پر منکسر المزاج اور کم گو توصیف احمد کرکٹ کے حلقوں میں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اپنی سادہ طبیعت اور خاموشی کے باعث انہیں بورڈ اکثر بڑی تقریبات میں نظر انداز بھی کردیتا ہے لیکن وہ کبھی حرف شکایت لب پر نہیں لاتے ہیں لیکن اب ان کے اس الزام نے ایک نیا پٹارا کھول دیا ہے۔
شاہ فیصل کالونی کے توصیف احمد خود بھی ایک سفارش کے تحت ٹیم میں آئے جب انہیں ان کے ایک پڑوسی جاوید صادق نے مشتاق محمد سے روشناس کرایا، آسٹریلیا کی ٹیم 1980 میں پاکستان کے دورہ پر آئی تھی اور جاوید میاں داد نئے نئے کپتان بنے تھے، توصیف احمد جو اب تک صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے جب نیٹ پر بولنگ کرنے آئے تو ماجد خان صادق محمد جیسے زبردست کھلاڑی انہیں نہیں کھیل پارہے تھے۔
جاوید میاں داد نے مشتاق محمد کے مشورے پر آسٹریلیا کے خلاف قومی ٹیم میں شامل کرلیا اور انہوں نے پہلے ہی ٹیسٹ میں سات وکٹ لیکر سب کو حیران کردیا، توصیف احمد نے تیز اسپن بولنگ کی ورائٹی متعارف کرائی اور بقول مرحوم تسلیم عارف کے کہ وہ کلب میچوں میں بلے بازوں کے گھٹنے توڑ دیتے تھے، بعد ازاں عمران خان کے وہ پسندیدہ بولر بن گئے تھے اور مسلسل کھیلتے رہے شارجہ کے مشہور زمانہ چھکے کے وہ بھی شریک کار تھے
کیا شاداب خان سفارشی کھلاڑی ہیں؟
چیمپئمز ٹرافی 2017 میں اپنی شاندار اسپن بولنگ سے شہرت حاصل کرنے والے شاداب خان کو کسی بھی طرح سفارشی کھلاڑی نہیں کہا جاسکتا، انہوں نے پاکستان کو متعدد میچز جتائے اور پی ایس ایل سمیت دوسری لیگز میں شاندار کارکردگی دکھائی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لیگز کی بھرمار کی وجہ سے وہ ایک معمولی بولر بن گئے جب وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان بنے تو خود کو اوپری نمبر کا بلے باز بنالیا اور بولنگ سے زیادہ بیٹنگ کرنے لگے ان کی اس کمزوری کی وجہ سے وہ قومی ٹیم سے باہر ہوگئے، ایک سال وہ زخمی بھی رہے لیکن جب وہ ٹیم میں دوبارہ واپس آئے تو کارکردگی نہ دکھاسکے۔
2023 کے ورلڈکپ میں ان کی شمولیت پر کافی بحث ہوئی اور اس وقت کے چیف سیلیکٹر شامل کرنے پر راضی نہیں تھے لیکن کپتان بابر اعظم کے مطالبے پر شامل کیے گئے جب سے ان پر سفارشی کا لیبل لگ گیا گیری کرسٹن نے تو اپنے مختصر کوچنگ دور کے اختتام پر جب بورڈ کو رپورٹ پیش کی تو واضح طور ہر شاداب خان سمیت پانچ کھلاڑیوں کو ٹیم سے مستقل نکالنے پر زور دیا تھا کیونکہ وہ ڈسپلن کی پابندی نہیں کرتے تھے ان میں سے ایک تو تازہ تازہ زیر عتاب ہیں۔
جب ثقلین مشتاق کوچ بنے تو شاداب خان ان کے داماد بن چکے تھے اور اس رشتہ داری نے ان کا کیس مزید کمزور اور مشکوک کردیا وہ ٹیم کے مستقل رکن تو نہ بن سکے لیکن سفارشی کا لیبل مزید گہرا ہوگیا اور اب توصیف احمد کے الزامات نے اسے سنگین بنادیا ہے اس دوران شاداب خان کی بولنگ اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ پرائیویٹ لیگز میں بھی انھیں بولنگ کم دی جاتی ہے۔
ثقلین مشتاق کا ماضی
گھنی داڑھی اور اپنے صوفیانہ جملوں سے بہت مذہبی نظر آنے والے ثقلین مشتاق بھی فکسنگ کے الزامات کی زد پر رہے ہیں، شکستوں کو خدائی نظام کہنے والے ثقلین مشتاق اپنی بولنگ کے باعث لیجنڈ سمجھے جاتے ہیں، دوسرا متعارف کرانے والے ثقلین مشتاق اپنے بعد میں آنے والے بہت سے مشہور بولرز کے آئیڈیل رہے اور ان کو دیکھ کر دوسرا سیکھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ خود کوئی بولر تیار نہ کرسکے ان کی کوچنگ میں کوئی ریگولر آف اسپنر ٹیم کا حصہ نہیں تھا اور نہ ان کو کبھی تلاش رہی بلکہ وہ آف اسپنر کا کردار ہی ختم کرچکے تھے۔
شاداب خان کو کھلانے کے لیے انہوں نے متعدد بار لیگ اسپنر کو فقط اسپنر کہا جس سے ملک میں اب آف اسپنر عنقا ہوچکے ہیں ان پر ماضی میں فکسنگ کے الزامات لگے لیکن ثابت نہ ہوسکے عبدالقیوم کمیشن میں وہ خود سے پیش ہوئے اور اپنی گواہی دی کہ وہ کبھی فکسنگ میں ملوث نہیں تھے لیکن اس وقت کے کوچ ہارون رشید نے الزام لگایا تھا کہ انڈیاکے خلاف کراچی میچ میں ثقلین نے بہت خراب بولنگ کی جس سے انڈیا ہارا ہوا میچ جیت گیا اس بیان کا حوالہ قیوم کمیشن میں پی سی بی کے وکیل نے دیا تھا اسی طرح کینیڈا میں صحارا کپ میں بھی ان کے اور سلیم ملک کے درمیان شراکت پر شک کیا گیا جب پاکستان اچانک ہار گیا جبکہ جیت یقینی تھی۔
توصیف احمد کے الزامات پر ثقلین مشتاق نے کہا ہے کہ سینئیر ہونے کے ناطے ان کی عزت کرتا ہوں لیکن وہ اب ان الزامات کا ثبوت پیش کریں ان کے بقول میرے پاس بھی ٹیلیفون کال کی ریکارڈنگ موجود ہے اور ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور اگر اب بات مزید کھلے گی تو میں بھی کچھ دکھاؤں گا دونوں اپنی ریکارڈنگ پبلک کردیں سننے والے خود فیصلہ کرلیں گے۔
توصیف احمد کے الزامات سچ ہیں یا جھوٹ یہ تو وقت بتائے گا لیکن ایک بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ قومی ٹیم میں من پسند کھلاڑی شامل کرنے کے لیے سابق کرکٹرز بھی دباؤ ڈالتے ہیں اور سفارشی کرکٹرز کی وجہ سے اہل اور باصلاحیت کھلاڑی پیچھے رہ جاتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ہر نئے دن کے ساتھ بدتر ہوتی جارہی ہے لیکن ذمہ داران مطمئن ہیں کہ ان کی عیاشیاں چل رہی ہیں اور نقادوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔

