چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار (درمیان)، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو (بائیں) اور وویک جوشی۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
ایس آئی آر کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن نے غیر ایس آئی آر مدت میں پرانے فارم 6 کے استعمال اور ای سی آئی نیٹ کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ کمیشن نے ایس آئی آر میں نوٹس حاصل کرنے والے ووٹروں کے گھروں پر بی ایل او بھیجنے، دہلی اور مہاراشٹر میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت بڑھانے سمیت کئی دیگر تبدیلیاں بھی کی ہیں۔
نئی دہلی:اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ جاری رہنے کے درمیان، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے سنیچر، 26 ستمبر کو کہا کہ نان-ایس آئی آر کی مدت میں پرانے فارم 6 کا استعمال کیا جائے گا۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ای سی آئی نیٹ کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں آئی آئی ٹی/آئی آئی آئی ٹی کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے میں مدد کے لیے فوراً ایک خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔
ای سی آئی نے کہا، ’ایس آئی آر کے لیے فارم 6 کے ساتھ منسلک اعلان کو معزز سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ غیر ایس آئی آر مدت کے لیے اصولوں (الیکٹورل رجسٹریشن رول، 1960) کے مطابق، لاگو ہونے والے فارم کااستعمال کیا جائے گا۔‘
کمیشن نے یہ جانکاری چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ کے بعد جاری ایک پریس ریلیز میں دی۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ اعلانات دی انڈین ایکسپریس کی ریتیکا چوپڑا کی اس رپورٹ کے بعد کیے گئے ہیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران سندھو اور جوشی نے متنازعہ ایس آئی آر عمل کے مختلف پہلوؤں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض درج کیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ رواں سال مئی میں وویک جوشی نے فائل پر خبردار کیا تھا کہ فارم 6 میں اس طرح تبدیلی نہیں کی جا سکتی کہ نئے ووٹروں کے لیے یہ بتانا لازمی ہو جائے کہ ان کے والدین یا دادا دادی ’گزشتہ ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ‘میں موجود تھے یا نہیں۔
جوشی نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے قواعد میں ترمیم کیے بغیر فارم 6 میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، اور سندھو نے بھی اس بات سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے باوجود یہ تبدیلی کر دی گئی۔
سندھو نے 13 اگست کو ریکارڈ پر کہا تھا کہ یہ تبدیلی’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ہے اور اسے’فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے۔‘تاہم، یہ سوال اب بھی فارم 6 کا حصہ بنا ہوا ہے۔
آج کی میٹنگ کے بعد، ای سی آئی نے یہ بھی کہا کہ جو ووٹر ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے ہیں، ان کے گھروں پر بوتھ لیول افسر (بی ایل او) جائیں گے اور ان سے ضروری دستاویز حاصل کریں گے۔اس کے لیے انہیں ووٹر رجسٹریشن افسر یا اسسٹنٹ ووٹر رجسٹریشن افسر (ای آر او/اے ای آر او) کے دفتر میں سماعت کے لیے بلانے کے بجائے ان کے گھروں پر جا کر دستاویز حاصل کیے جائیں گے۔ کمیشن نے کہا کہ صرف غیر معمولی حالات میں ہی سماعت کی جائے گی اور اسے بھی ترجیحی بنیاد پر آن لائن کیا جائے گا۔
ای سی آئی نے کہا،’جاری ایس آئی آر کے دوران جن لوگوں کو نام میپ نہ ہونے اور منطقی تضادات کی وجہ سے نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان کے گھروں پر بی ایل او جائیں گے اور ان سے دستاویز حاصل کریں گے۔ اس کے بعد ان دستاویز کو ای سی آئی نیٹ پر اپلوڈ کیا جائے گا، تاکہ ای آر او اس پر فیصلہ لے سکے۔ ایسے لوگوں کو ای آر او/اے ای آر او کے دفتر میں سماعت کے لیے بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صرف غیر معمولی حالات میں، ای آر او کے فیصلے کے مطابق، شنوائی کی جائے گی اور اسے ترجیحی بنیاد پر آن لائن کیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر ووٹر اپنے خاندان کے کسی بھی بالغ رکن کو اپنی جانب سے سماعت میں شرکت کے لیے مجاز بنا سکتا ہے۔ آن لائن سماعت کی سہولیات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔‘
اس کے علاوہ، ای سی آئی نے اعلان کیا کہ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر (ڈی ای سی) کی سربراہی میں ایک کمیٹی ای سی آئی نیٹ کا جائزہ لے گی۔ اس میں آئی آئی ٹی/آئی آئی آئی ٹی کے ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔
کمیشن کے مطابق، کمیٹی یہ’دوبارہ جانچ‘کرے گی کہ ای سی آئی نیٹ قوانین اور قواعد کی دفعات کی پابندی کرتا ہے یا نہیں، اور اپنی رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گی۔
یہ قدم انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے دوسرے حصے کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوا میں 97 ووٹروں نے ریاستی الیکشن کمیشن کے سامنے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے اپنے نام حذف کیے جانے کو کامیابی سے چیلنج کیا تھا، لیکن اس کے باوجود کمیشن کا سافٹ ویئر سسٹم ان کے نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے میں ناکام رہا۔
ای سی آئی نے دہلی میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت بھی بڑھا کر 30 اکتوبر 2026 کر دی ہے۔ وہیں، نوٹس اور دعووں و اعتراضات کے نمٹارے کی مدت 30 نومبر 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کی جانب سے موصولہ درخواست کے بعد ریاست میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت بڑھا کر 12اکتوبر 2026 کر دی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں نوٹس اور دعووں و اعتراضات کے نمٹارے کی مدت بھی بڑھا کر 10 نومبر 2026 کر دی گئی ہے۔
پریس ریلیز میں ای سی آئی نے کہا کہ کمیشن کی تمام بیٹھکوں کے لیے ایجنڈا پہلے ہی شیئر کیا جائے گا اور بیٹھکوں کی کارروائی کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔اس کے علاوہ، کمیشن نے کہا کہ تمام افسران کی سالانہ کارکردگی کی تشخیصی رپورٹ (اے پی اے آر)مقررہ مدت، یعنی 31 دسمبر 2026 تک مکمل کی جائے گی۔افسران کے بیرون ملک دوروں کے لیے کمیشن کی منظوری لی جائے گی اور کمیشن کے کمشنروں کی جانب سے افسران کو دی گئی تمام ہدایات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا۔
تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ کیا الیکشن کمیشن میں اب تک ان اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

