رباط: مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے 50 سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے۔ وہ مراکش کی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور عرب دنیا کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔
شاہی محل نے منگل کو بیان میں کہا کہ شہری منصوبہ بندی کی وزیر اور مراکش شہر کی میئر المنصوری کو نئی حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹیلی ویژن خطاب میں انہوں نے اپنی تقرری کو "واقعی تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ایک خاتون حکومت کی قیادت سنبھال رہی ہے، جو تمام مراکشی خواتین کے لیے باعثِ فخر ہے۔
یہ تقرری گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے چار روز بعد سامنے آئی ہے۔ بادشاہت کے حامی "آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی” (PAM) نے ایوانِ نمائندگان کی 395 میں سے 97 نشستیں جیت کر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 198 نشستوں کی اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس لیے اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملانا المنصوری کی پہلی ذمہ داری ہو گی۔ PAM نے تمام جماعتوں کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (PJD) اور فیڈریشن آف ڈیموکریٹک لیفٹ سمیت بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی حکومت 2030 کے فیفا ورلڈ کپ سے قبل اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کرے گی، جو مراکش، پرتگال اور اسپین میں منعقد ہونا ہے۔
المنصوری سے قبل تیونس میں نجلا بودن اکتوبر 2021 سے اگست 2023 تک وزیر اعظم رہیں، جبکہ سارہ زعفرانی کو مارچ 2025 میں اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔
1976 میں مراکش شہر میں پیدا ہونے والی المنصوری نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور فرانس کی مونٹ پیلیئر یونیورسٹی سے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اور امریکا کی نیویارک یونیورسٹی سے اینگلو سیکسن بزنس لا میں ڈپلومہ لیا۔ وہ 2009 میں شہر کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوئیں اور 2021 میں دوبارہ میونسپل کونسل کی سربراہ بنیں۔ وہ کئی مدتوں تک ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہیں۔ اکتوبر 2021 میں وہ قومی حکومت کا حصہ بنیں اور علاقائی منصوبہ بندی، شہری ترقی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر مقرر ہوئیں۔ ان کے دور میں براہِ راست رہائشی امداد پروگرام، شہری منصوبہ بندی اور علاقائی ترقی کی اصلاحات اور 2023 کے الحوز زلزلے کے متاثرین کی دوبارہ آبادکاری جیسے امور ان کی وزارت کے دائرے میں رہے۔

