بھارت میں اندھیرا چھانے کا خطرہ!  کروڑوں لوگ پریشان

news 1790916458 6583



news 1790916458 6583

(ویب ڈیسک )بھارت میں بجلی کی قلت ستمبر کے دوران تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، حالانکہ بجلی کی بڑھتی طلب پوری کرنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار میں مسلسل چھٹے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گرڈ انڈیا کے روزانہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے حساب سے ستمبر میں بھارت میں بجلی کی کمی 56 کروڑ کلوواٹ گھنٹے تک پہنچ گئی، جو اگست 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کم بارش کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور دن کے وقت پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹری اسٹوریج کی محدود سہولت نے کوئلے پر انحصار بڑھا دیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13.3 فیصد بڑھ گئی، جبکہ مجموعی بجلی پیداوار میں کوئلے کا حصہ اگست کے 64.6 فیصد سے بڑھ کر 66.03 فیصد ہوگیا۔

 یہ بھی پڑھیں:تیل مزید مہنگا ہو گیا

دوسری جانب قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار بھی 25.1 فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ ماہ 29.62 ارب کلوواٹ گھنٹے رہی، تاہم مجموعی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ اگست کے 19.5 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 17 فیصد رہ گیا۔

علاوہ ازیں ایک الگ حکومتی ڈیٹا کے مطابق بھارت کے تقریباً ہر پانچ میں سے دو کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں ایندھن کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہیں۔

ایلارا سیکیورٹیز کے ریسرچ اینالسٹ روپیش سانکھے کے مطابق ستمبر میں صنعتی کھپت میں اضافے کے باعث بجلی کی بلند طلب، جبکہ متعدد پاور پلانٹس میں جاری مرمتی کام، بجلی کی قلت کی اہم وجوہات میں شامل رہے۔

گرڈ انڈیا کے مطابق ستمبر میں بھارت کی مجموعی بجلی پیداوار سالانہ بنیاد پر 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 174.17 ارب کلوواٹ گھنٹے تک پہنچ گئی، تاہم پیداوار میں اضافے کے باوجود بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق برقرار رہا۔
 
 
 
 
 
 
 





Source link

متعلقہ پوسٹ