اوسلو: ناروے کی نوبیل کمیٹی ۹؍ اکتوبر کو اوسلو میں امن انعام کے فاتح کا اعلان کرے گی۔ اس سال کمیٹی کو ۲۸۷ نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ تنظیمیں ہیں۔ مبصرین کے مطابق فیصلہ غیر متوقع ہو سکتا ہے، کیونکہ کمیٹی ماضی میں کئی بار حیران کن اور متنازع انتخاب کر چکی ہے۔
پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو کے ڈائریکٹر ہاکون گیرلوو کی واچ لسٹ میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) نمایاں ہے، جسے وہ کمزور پڑتے کثیر ملکی تعاون کے دور میں عالمی اشتراک کی نادر علامت قرار دیتے ہیں۔ دیگر ناموں میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی، سوڈان کے ’’ایمرجنسی رسپانس رومز‘‘، یوکرین میں بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم مائکولا کولیبا اور سیو دی چلڈرن، ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘، نیز بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور فوجداری عدالت شامل ہیں۔ خواتین میں غزہ کی سرجن سارہ السقا اور یولیا ناوالنایا کے نام بھی زیرِ گردش ہیں۔
ٹرمپ کی نامزدگی فروری میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کے باعث متنازع سمجھی جا رہی ہے۔ اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام کے تجزیہ کار شان ڈیوس کے مطابق موجودہ حالات میں ان کی جیت ان کے حامیوں کو بھی قابلِ یقین نہیں لگے گی۔ گیرلوو کا کہنا ہے کہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اپنا انعام ٹرمپ کو پیش کرنے سے کمیٹی کا فیصلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اس سال انعام کی رقم ۱۲ ملین سویڈش کرونا (تقریباً ۱۲ لاکھ ڈالر) ہے۔

