اس ہفتے فرانس بھر میں طلبہ کے احتجاج نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے ہیں۔
اس دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، 100 سے زیادہ سکولوں کو نقصان پہنچا جبکہ درجنوں اساتذہ زخمی ہوئے۔
جمعے کی دوپہر تک وزارت قومی تعلیم نے اعلان کیا کہ 564 سکول متاثر ہوئے۔ تصاویر میں سڑکوں پر آگ، جل کر تباہ ہونے والے داخلی دروازے اور فسادات پر قابو پانے والی پولیس کے ساتھ جھڑپیں کرتے نوجوان دکھائی دے رہے ہیں۔
بدامنی کے باعث کم از کم 400 ہائی سکول، یعنی تقریباً ہر 10 میں سے ایک، بند کر دیے گئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
احتجاج کا آغاز گذشتہ ہفتے سکولوں کی صورتحال سے متعلق بے اطمینانی کے باعث ہوا، جب پیرس کے آس پاس سیکنڈری سکولوں کی پرامن ناکہ بندیاں کی گئیں۔
بعد ازاں یہ احتجاج حکومت کے خلاف وسیع تر بے اطمینانی میں تبدیل ہو کر ملک بھر میں پھیل گیا، جب فرانس کی سیکنڈری سکولوں کے طلبہ کی سب سے بڑی یونین نے ملک گیر ناکہ بندی کی کال دی۔
یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر حامی بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے۔ فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے جمعے کو ٹی ایف ون ٹی وی کو بتایا کہ پولیس نے پیر سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں زیادہ تر نوعمر ہیں۔
وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے اس سے قبل آر ٹی ایل ریڈیو سے گفتگو میں کہا تھا کہ املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کے والدین کو اس کا ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے جمعے کو فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ اب تک سکولوں کے 65 ملازمین زخمی ہوئے، جن میں 40 ہیڈ ٹیچرز شامل ہیں جبکہ عمارتوں اور دیگر سہولیات کو بھی نمایاں نقصان پہنچا اور اب کلاسیں آن لائن ہو رہی ہیں۔
بدامنی کے دوران 300 سے زیادہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد بھی ہوا اور فسادات پر قابو پانے کے لیے تعینات اہلکاروں نے لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔
وسطی فرانس کے شہر ٹور میں بدھ کو ایک سیکنڈری سکول کے باہر 16 سالہ طالب علم آنکھ میں ایل بی ڈی 40 لگنے سے زخمی ہو گیا۔ ایل بی ڈی 40 ’لانسور دے بال دے ڈیفانس‘ یا ’ڈیفنس بال لانچر‘ کا مخفف ہے۔
فرانسیسی پولیس کی جانب سے استعمال کی جانے والی یہ متنازع رائفل ماضی کے مظاہروں میں شدید نوعیت کی چوٹوں کا سبب بن چکی ہے۔
ٹور میں 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم اور طلبہ یونین ’فیڈریشن سیندیکال ایتیودینت‘ کے رکن مارٹن گذشتہ چند روز سے مظاہروں میں شریک ہیں۔
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ زخمی طالب علم کی حالت ’تشویش ناک‘ ہے اور ممکن ہے کہ وہ باقی زندگی کے لیے اپنی بینائی سے محروم ہو جائے۔
مارٹن نے، جو ان کا اصل نام نہیں، دعویٰ کیا کہ ’پولیس نے انتہائی تشدد کا مظاہرہ کیا، طلبہ کو مارا اور بہت زیادہ مقدار میں آنسو گیس استعمال کی۔‘
انہوں نے کہا ’بظاہر ہائی سکول کے طلبہ اس قدر کم عمر ہیں کہ ان کی بات نہیں سنی جا سکتی لیکن اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے۔‘
’یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اس تحریک سے خوف زدہ ہے، وہ نوجوانوں اور محنت کش طبقے کے غصے پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ہمیں خوف زدہ کرنے کی ان کی تمام کوششوں کے باوجود ہم نہیں رکیں گے۔‘
ایک اور 14 سالہ طالب علم کے کئی دانت ٹوٹ گئے اور اسے ول دواز میں چہرے پر شدید چوٹیں آئیں، جب آنسو گیس کے گرینیڈ لانچر سے فائر کیا گیا ایک گولہ اس کے جبڑے پر لگا۔
اس کی والدہ نے فرانسیسی اخبار ’لے پیریزیئن‘ کو بتایا کہ اس کا منہ ’چیر کر رکھ دیا گیا‘۔
فرانسیسی حکام نے پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے متعدد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ سیکنڈری سکول کے طلبہ پر تشدد کیے جانے کی اطلاعات ’انتہائی تشویش ناک‘ ہیں۔
اس انسانی حقوق کی تنظیم نے جمعرات کی شام ایکس پر لکھا ’ان میں سے بہت سے نابالغ، بچے ہیں۔ ان کا تحفظ کیا جانا چاہیے، لاٹھیوں سے مارا نہیں جانا چاہیے۔‘
’یہ بات واضح ہے کہ ناکہ بندیوں کے آغاز سے ہی بعض مظاہرین کی جانب سے بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ یہ قابل قبول نہیں لیکن ان حالات میں بھی، گرفتاری کے وقت بھی، طاقت کا استعمال متناسب ہونا چاہیے۔‘
ٹور کے میئر ایمانوئل ڈینس نے جمعرات کو امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ تحریک کے مطالبات ’جائز‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعے کو طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔
کچھ والدین بھی احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ ونسنٹ مارٹن اپنی بیٹی کے ساتھ پیرس کے ہیلین بوشے ہائی سکول کے باہر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ ’بنیادی طور پر بہتر تعلیمی حالات کا مطالبہ کرنے میں درست ہیں۔‘
طلبہ یونین ’یونین سیندیکال لیسے‘، جس نے ان ناکہ بندیوں کا اہتمام کیا، کا کہنا ہے کہ وہ حکام سے ’اساتذہ اور عملے کی کمی، خستہ حال ہائی سکولوں، گنجائش سے زیادہ بھرے کلاس رومز اور ضرورت سے زیادہ مصروف نظام الاوقات‘ کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مارٹن نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ جس ایک خاص پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، وہ ایک نیا اقدام ہے جس کے تحت غیر یورپی طلبہ کے لیے یونیورسٹی فیس میں چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا ’حکومت کا حتمی مقصد تمام طلبہ کے لیے فیس میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ کی کمی ہے۔
’حالیہ حکومتیں سکولوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں جیسی عوامی خدمات پر مسلسل کم رقم خرچ کر رہی ہیں جبکہ فوج اور بڑی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔‘
ٹور میں ایک اور یونیورسٹی طالب علم، 21 سالہ ونی نے کہا کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں کو ’آنکھوں کے سامنے بکھرتے ہوئے‘ دیکھ رہے ہیں کیونکہ بجٹ میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا ’حکومت کو جو کرنا چاہیے وہ بہت سادہ ہے۔ فنڈنگ جاری کرے۔ ہر سال ہر ممکنہ عوامی خدمت کے بجٹ میں کمی کی جا رہی ہے اور ہر سال سرکاری شعبے سے وابستہ ہر شخص سے کم وسائل میں زیادہ کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔‘
وزیر تعلیم نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ طلبہ کی احتجاجی تحریک کو ’ہائی جیک‘ کر لیا گیا ہے اور کہا کہ اساتذہ نے انہیں بتایا کہ ’میرے سامنے موجود لوگ میرے طلبہ نہیں تھے۔‘
گذشتہ چند روز کے دوران متعدد سکولوں کو آگ لگائی گئی، جن میں ملک کے مغربی حصے میں نانٹ شہر کا نیلسن منڈیلا ہائی سکول بھی شامل ہے۔
جنوبی شہر مارسیلے کے وکٹر ہیوگو ہائی سکول کے عملے پر بھی پٹرول پھینکا گیا جبکہ مظاہرین کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے کنٹینرز میں پٹرول بھرا تھا۔
فرانس کے وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے کہا کہ مظاہروں میں ’ایک سرگرم اور پرتشدد اقلیت‘ شامل ہے۔
انہوں نے فرانس کے آر ٹی ایل ریڈیو سے گفتگو میں کہا ’ہمیں مکمل طور پر یقین نہیں کہ وہ خود ہائی سکول کے طلبہ بھی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم ہائی سکول کے طلبہ کے مظاہروں سے امن عامہ میں خلل ڈالنے کی صورتحال تک پہنچ گئے ہیں۔ جب لوگ بسوں کو نشانہ بنائیں اور سکولوں کو آگ لگائیں تو یہ محض احتجاج کا معاملہ نہیں رہتا۔‘
وِنی کا کہنا ہے کہ ہر احتجاجی تحریک کی طرح کچھ ’کاسورز‘ یا تخریب کار بھی ہوتے ہیں جو تباہی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، جسے طلبہ نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا ’میں نے ذاتی طور پر احتجاج کے پہلے روز نوجوانوں کے ایک چھوٹے گروپ کو دیکھا جو طلبہ نہیں تھے۔
’وہ ناکہ بندی کیے گئے ایک ہائی سکول کے سامنے گتے لا کر اسے آگ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا ’ان سب کے محرکات ایک جیسے نہیں۔ کچھ صرف تباہی چاہتے ہیں، کچھ سمجھتے ہیں کہ احتجاج کا واحد راستہ یہی ہے، حتیٰ کہ احتجاج میں سب سے زیادہ سرگرم طلبہ بھی اس سے اختلاف کرتے ہیں جبکہ کچھ دراصل تحریک کے مخالف ہیں اور اسے غیر مستحکم کرنے کے مقاصد رکھتے ہیں۔‘
مارٹن نے کہا کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو بھی تحریک میں شامل ہوتے دیکھا جو طلبہ نہیں ’کیونکہ ہمارا مطالبہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم ہائی سکول کے طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور محنت کشوں کو متحد کرنے والی ایک بڑی تحریک کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں خاص طور پر پولیس تشدد اور جبر کے خلاف مل کر مضبوط رہنا ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام نسلوں کی جانب سے یکجہتی دیکھی ہے، خصوصاً سابق ’ییلو ویسٹ‘ مظاہرین کی جانب سے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 17 اکتوبر کا انتظار کر رہے ہیں جب ’ییلو ویسٹ‘ گروپ کی جانب سے ایک بڑے مظاہرے کا منصوبہ ہے۔
اس سے قبل منگل چھ اکتوبر کو طلبہ کا ایک اور بڑا احتجاج متوقع ہے۔ انہوں نے کہا ’اس دوران ہم یونیورسٹی اور اس سے باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔‘
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے باعث سیاسی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔
فرانس کے وزیر اعظم اور نیشنل ریلی کی صدارتی امیدوار میرین لے پین جیسے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں نے ان مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام سخت گیر بائیں بازو پر عائد کیا ہے، بالخصوص ’لا فرانس انسومیز‘ (ایل ایف آئی) پارٹی پر۔
ایل ایف آئی کے سربراہ اور صدارتی امیدوار ژاں لوک میلانشوں نے، جنہوں نے بعض مظاہروں میں شرکت بھی کی ہے، کہا کہ وہ پرامن احتجاج کے حامی ہیں۔
تاہم ان کا مؤقف ہے کہ بائیں بازو کو مورد الزام ٹھہرانے سے مظاہروں کے پس پشت موجود مسائل حل نہیں ہوں گے۔

