محکمہ آبپاشی سندھ کے ایگزیکیٹو انجنیئر کلری بگھار ڈویژن ٹھٹہ مزمل میمن نے کینجھر جھیل کے پانی کے معیار سے متعلق لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھیل کے پانی کی آلودگی سے متعلق سوشل میڈیا اور میڈیا پر چلنے والی خبریں غیر مصدقہ ہیں۔
مزمل میمن کے مطابق کینجھر جھیل کے پانی کی آلودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں حقائق کے منافی ہیں، جھیل کے پانی کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کینجھر جھیل اور کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کے جی کینال کے پانی کے معیار کی روزانہ جانچ کی جاتی ہے، جھیل میں پانی کی آمد کا مرکزی مقام لیک ریگولیٹر آر ڈی 2.4 مکمل کھلا ہوا ہے۔
لیبارٹری رپورٹ کے مطابق کینجھر جھیل کے مرکزی مقام پر پانی کا پی ایچ 8.3 ریکارڈ کیا گیا، پانی میں ٹی ڈی ایس کی مقدار 350 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ ہوئی، جب کہ کے جی کینال کے ڈاؤن اسٹریم مقام پر پانی کا پی ایچ 8.4 ریکارڈ کیا گیا
محکمہ آبپاشی کے افسر مزمل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی کو فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کی بھی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے، پانی میں جانچے گئے کیمیائی اجزا کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حدود کے اندر ہے، اس لیے لیبارٹری رپورٹس کینجھر جھیل کے پانی میں آلودگی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تصدیق نہیں کرتیں۔
محکمے کا کہنا ہے کہ عوام غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین کرنے سے گریز کریں، اور پانی کے معیار سے متعلق معلومات کے لیے مستند سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے، جھیل اور کراچی کو پانی کی فراہمی کے نظام کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔

