سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی عملی نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلیں

nuclear1791721660 0



سائنس دانوں نے ایسی تجرباتی جوہری گھڑیاں تیار کرلی ہیں جو مستقبل میں وقت کی پیمائش کو مزید درست بنانے اور طبیعیات کے بنیادی اصولوں کی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر میں 7 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یورپ اور چین کے سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا ہے کہ جوہری گھڑیوں کو عملی طور پر وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جرمنی کے قومی ادارے برائے پیمائش اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی کے محققین شامل تھے۔

روایتی ایٹمی گھڑیاں ایٹم کے الیکٹرانز میں توانائی کی تبدیلی کو وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کرتی ہیں جبکہ نئی جوہری گھڑیاں ایٹم کے مرکزے میں ہونے والی توانائی کی تبدیلی پر کام کرتی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ طریقہ وقت کی پیمائش کے لیے زیادہ مستحکم اور حساس نظام تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

دونوں تجرباتی گھڑیاں تھوریم-229 نامی آئسوٹوپ پر مبنی ہیں جسے کیلشیم فلورائیڈ کے مادے میں شامل کیا گیا ہے۔ خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر اس کے مرکز میں توانائی کی تبدیلی کو متحرک کرتا ہے جبکہ مرکز لیزر کی فریکوئنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے ریفرنس فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ یہ ابتدائی نمونے فی الحال بہترین آپٹیکل ایٹمی گھڑیوں کی کارکردگی تک نہیں پہنچ سکے لیکن محققین کے مطابق یہ کامیابی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ