ایران نے امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی دھمکی دی؛ ہرمز پر ’امریکی افواج کا کنٹرول‘: سینٹ کام

Inquilab 20261005 185036 0000 d 1


تہران/واشنگٹن: سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) بحریہ کے ایک سینئر کمانڈر نے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی صورت میں ڈبونے کی دھمکی دی ہے، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سخت ردِعمل دیا ہے۔
ریئر ایڈمرل علی عظمائی نے ٹیلی ویژن پر کہا کہ ایرانی افواج امریکی جنگی جہازوں کے آبنائے ہرمز کے دہانے کے قریب آنے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ انہیں ڈبو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اس آبی گزرگاہ کے قریب آنے کی جرأت نہیں رکھتے اور ایک امریکی طیارہ بردار جہاز 700 کلومیٹر دور چلا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند تو اسے میدان میں آنا چاہیے۔ عظمائی نے دعویٰ کیا کہ آئی آر جی سی بحریہ آبنائے اور خلیج کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ ایران کی باقاعدہ بحریہ خلیجِ عمان کو کنٹرول کرتی ہے۔
سینٹ کام نے ایرانی کمانڈر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی آر جی سی بحریہ کمانڈر کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز پر واضح طور پر امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کا کنٹرول ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے پیر کے روز خلیجی شراکت داروں کو آبنائے کے راستے 19 ملین بیرل سے زائد خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے الاسکا کے شہر وسلا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کیا کرے گا، انتظار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کو زبردست ضرب لگائے گا اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دونوں ممالک میں انتخابات سے قبل ایران کے خلاف بڑے نئے آپریشن کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت ٹرمپ کے یہ کہنے سے پہلے ہوئی تھی کہ وہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
واقعات کے دوران جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں سیریک کے ساحل کے قریب ایک ماہی گیری کشتی پر نامعلوم ڈرون حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ ڈرون کے ماخذ کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ جون میں طے پانے والی اسلام آباد ایم او یو کی پاسداری کریں اور اختلافات کو گفتگو سے حل کریں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں محفوظ جہاز رانی پر زور دیا اور جہاز رانی و توانائی کی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

متعلقہ پوسٹ