فرانس میں کل تشدد کے واقعات نے فرانس کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ درجنوں تاریخی املاک کو نقصان پہنچایا گیا جن میں تاریخی ٹاؤن ہال بھی شامل ہے۔ سینکڑوں نجی دوکانیں لوٹ لی گئیں، 1800 افراد گرفتار ہوئے۔ تشدد مخصوص علاقوں میں مخصوص گروہوں نے کیا۔ فرانس میں تشدد کے واقعات پر یورپ اور امریکہ میں یکساں تشویش پھیل گئی ہے۔ بظاہر یہ احتجاج مہنگائی پر کیا جا رہا تھا۔ مہنگائی مین اضافہ کی وجوہات فرانس کے اندر کم اور مشرق وسطیٰ میں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود پیرس اور فرانس کے کئی دوسرے شہروں مین تشدد کا رخ فرانس کے ریاستی اداروں کی املاک اور نجی دوکانداروں کی املاک کی طرف تھا۔

کل کیا ہوا؟ مفصل خبر کیا ہے؟
فرانس میں ہفتہ 17 اکتوبر 2026ء کو مہنگائی، معیارِ زندگی اور سرکاری خدمات کے خلاف ملک گیر احتجاج نے کئی شہروں میں پُرتشدد صورت اختیار کر لی۔ پیرس سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ خبر کی اہم بات یہ ہے کہ احتجاج میں شریک تمام افراد پُرتشدد نہیں تھے: بڑی تعداد نے پُرامن مظاہروں میں حصہ لیا، جب کہ تشدد مخصوص گروہوں اور مقامات پر ہوا۔
فرانس میں ملک گیر احتجاج عموی طور پر پر امن تھا،لیکن کئی جگہوں پر نقاب پوش گروہ سامنے آئے جنہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع کیں۔ اس کے بعد گرفتاریاں اور سرکاری عمارتوں پر حملے ہوتے رہے۔
پیرس میں 18 اکتوبر 2026ء شہر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن بن گیا
فرانس میں مہنگائی اور عوامی خدمات کے خلاف مظاہرے ہفتے کے روز کئی بڑے شہروں تک پھیل گئے۔ طلبہ، مزدوروں، ٹریڈ یونینوں اور دیگر شہریوں کے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، تاہم دن گزرنے کے ساتھ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام نے مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ بتائی، جبکہ مزدور یونین CGT نے یہ تعداد آٹھ لاکھ کے لگ بھگ بتائی۔ یہ دونوں الگ الگ اندازے ہیں۔
پیرس کمیون 1871ء اور دوسری عالمی جنگ کے دوران پ]یرس کے حالات کو خارج کرنے کے بعد تشدد کی نوعیت کو دیکھ کر 18 اکتوبر 2026ء کو شہر کی کی شہری زندگی، ثقافتی ورثہ کے لئے ایک بدترین دن قرار دیا جا سکتا ہے۔
غیرمعمولی تشدد
دستیاب رپورٹوں کی روشنی میں کل پیرس میں تشدد کی صورت غیر معمولی تھی۔
پیرس کی نائب میئر لامیا ال آراج نے کہا کہ شہر میں تشدد کی سطح ایسی تھی جیسی ان کے خیال میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
بڑے پیمانے پر نقصان
پیرس مین بار ہا احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ چکے مزدوروں، سٹوڈنٹس، سیاسی کارکنوں، بائیں بازو کی تنظیموں میں سے کسی کو بھی عموما ً لٹیروں کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان سب کے احتجاج مین اگر کبھی تشدد اور پولیس سے ٹکراؤ کی نوبت آئی بھی تو دکانوں کی لوٹ مار کی نوبت نہیں آئی لیکن کل ہفتہ کے روز پیرس میں سینکڑوں دوکانوں میں گھس کر لوٹ مار کی گئی۔ گاڑیوں کو آگ لگانے اور سڑکوں پر تباہی کے شواہد موجود ہیں۔ پولیس نے پیرس کے علاقے میں ریکارڈ تعداد میں گرفتاریاں بھی کیں۔

پیرس میں ماضی کے دیگر بڑے فسادات، مثلاً مئی 1968ء یا 2005ء کے شہری ہنگاموں سے کل کے تشدد اور ولت مار کا باقاعدہ موازنہ کرنے کے لئے اعداد و شمار کو دیکھنا ہو گا لیکن پیرس سے واقف بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایسا سیاہ روز پیرس میں کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا کل ہفتہ کے روز تھا۔

احتجاج کی وجوہات کیا تھیں؟
احتجاج کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے محنت کش طبقے کے علاقوں میں واقع اسکولوں کے طلبہ کی شکایات سے ہوا تھا۔ طلبہ نے اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی خستہ حالت اور تعلیمی سہولتوں کی ناکافی فراہمی کے خلاف آواز اٹھائی۔ بعدازاں یہ تحریک وسیع تر ہو گئی اور اس میں مہنگائی، ایندھن کی بلند قیمتوں، معاشی عدم مساوات اور عوامی خدمات کے لیے سرکاری اخراجات سے متعلق شکایات بھی شامل ہو گئیں۔
مظاہروں میں طلبہ کے علاوہ اساتذہ، والدین، مزدوروں، کسانوں، ریٹائرڈ افراد اور ٹریڈ یونینوں نے بھی شرکت کی۔ بعض مظاہرین نے صدر ایمانوئل میخواں کی حکومت اور امیر طبقے کے خلاف نعرے لگائے۔

پیرس میں جھڑپیں، دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان
پیرس میں پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہروں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، بینکوں اور تجارتی مراکز کو نقصان پہنچایا گیا اور بعض دکانوں میں لوٹ مار ہوئی۔
رائٹرز کے مطابق مظاہرین نے معروف ڈپارٹمنٹ اسٹور Galeries Lafayette میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایک Lacoste اسٹور اور دیگر دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا، جبکہ موبائل فون کمپنی SFR کی ایک دکان میں لوٹ مار کی اطلاع دی گئی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ فرانسیسی حکام نے بتایا کہ ایک نوجوان مظاہرین کا ہاتھ اسٹن گرینیڈ اٹھانے کی کوشش کے دوران پھٹ گیا۔ پولیس کے طرزِ عمل اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے طریقوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، اور پولیس کے مبینہ تشدد سے متعلق متعدد شکایات کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسرے شہروں میں کیا ہوا؟
احتجاج اور تشدد صرف دارالحکومت پیرس تک محدود نہیں رہا۔
لیموج (Limoges): شہر کے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مارسی (Marseille): مظاہرین ایک سرکاری عمارت میں داخل ہوئے اور عمارت کی دیواروں پر تحریریں بنا کر نقصان پہنچایا۔
لیون (Lyon): شہر کے سیاحتی دفتر کو آگ لگائی گئی اور اس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
بوردو (Bordeaux): مقامی حکام کے مطابق متعدد دکانوں کو لوٹا گیا یا نقصان پہنچایا گیا۔
ان واقعات کے بعد کئی شہروں میں صفائی اور نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کیا گیا۔ فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ احتجاج کے دوران سیکڑوں دکانیں متاثر ہوئیں۔
France’s cost-of-living protests take a destructive turn as rioters torch a historic town hall, leaving much of the 143-year-old landmark in ruins. In Limoges, flames engulf the building before its roof collapses. The local prefect calls the attack deliberate, while France’s interior minister blames radical far-left groups for violence breaking out during demonstrations nationwide. President Emmanuel Macron is condemning the destruction and warning that those responsible for attacking public buildings and businesses will face prosecution. The unrest is spreading well beyond one city. See where masked groups are attempting to storm government buildings: https://t.co/9nj3XP2exX
— Fox News (@FoxNews) October 18, 2026
گرفتاریاں اور جانی نقصان
احتجاج کے ابتدائی روز رائٹرز نے وزیرِاعظم کے حوالے سے تقریباً 1,200 گرفتاریوں کی اطلاع دی۔ تاہم اتوار، 18 اکتوبر کو رائٹرز کی تازہ رپورٹ میں وزیرِ داخلہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک بھر میں گرفتار افراد کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور 600 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پیرس میں مظاہرے کے دوران ایک شخص دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہلاک ہو گیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اس کی موت کو احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے سے جوڑا گیا، لیکن اسے پولیس کی کارروائی سے ہونے والی موت قرار دینے کے لیے کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
اعداد و شمار میں فرق کی وضاحت: گرفتاریوں اور زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی۔ اس لیے ہفتے کے ابتدائی اعداد و شمار اور اتوار کو جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار کو ایک ہی وقت کا حتمی تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
حکومت کا مؤقف اور سیاسی دباؤ
فرانس کے وزیرِاعظم سباستیاں لیکورنو نے کہا کہ حکومت تشدد کے ذریعے دباؤ ڈالنے والوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کو قرار دیا۔
صدر ایمانوئل میخواں نے بھی سرکاری عمارتوں، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی اور سزا دینے کا عزم ظاہر کیا۔ دوسری جانب دائیں بازو کے رہنما جورڈن بارڈیلا نے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال پر تنقید کرتے ہوئے میخواں سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس میں 2027ء کے صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور حکومت کو معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور عوامی عدم اطمینان کا سامنا ہے۔
اتوار کو بھی کشیدگی برقرار
آج اتوار، 18 اکتوبر کو پیرس میں دوبارہ جھڑپوں کی اطلاعات آئیں۔ پولیس نے ریپبلک اسکوائر کے علاقے میں آنسو گیس استعمال کی اور بعض مقامات پر سائیکلوں کو آگ لگائے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ حکومت نے کاروباری اداروں کے نقصانات کے ازالے اور ذمہ داروں سے نقصان کی تلافی کرانے کے امکانات پر بھی بات کی۔
صدر میخواں کے دفتر کے مطابق وہ اتوار کی رات مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے قوم سے خطاب کرنے والے تھے۔ دستیاب رپورٹ میں اس خطاب کا نتیجہ یا اس میں کیے گئے اعلانات شامل نہیں تھے، اس لیے انہیں اس خبر میں پیش نہیں کیا جا رہا۔
پس منظر اور اہمیت
فرانس میں احتجاج کی ایک طویل تاریخ ہے، اور 2018ء میں شروع ہونے والی یلو ویسٹ تحریک بھی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف عوامی غصے سے ابھری تھی۔ موجودہ احتجاج میں بھی معاشی مشکلات نمایاں ہیں، لیکن اس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا آغاز اسکولوں کے مسائل سے ہوا اور پھر یہ تعلیم، عوامی خدمات، عدم مساوات اور معیارِ زندگی کے وسیع تر سوالات تک پھیل گیا۔
اس لیے ان واقعات کو محض توڑ پھوڑ یا پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں تک محدود کر کے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ایک طرف بڑی تعداد میں شہری اپنی معاشی اور سماجی شکایات کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلے، تو دوسری طرف بعض گروہوں کے تشدد نے احتجاج کے پُرامن شرکا، کاروباری اداروں اور سرکاری املاک کو بھی متاثر کیا۔ حکومت کے لیے فوری چیلنج امن و امان بحال کرنا ہے، جبکہ سیاسی چیلنج ان عوامی شکایات کا جواب دینا ہے جنہوں نے احتجاج کو ملک گیر شکل دی۔
بنیادی ماخذ: رائٹرز کی 17 اور 18 اکتوبر کی رپورٹس، اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصویری رپورٹ۔

