چاول کی برآمدی صنعت کے ایک عہدیدار نے منگل کو بتایا کہ ایران جنگ کے باعث مال برداری کے اخراجات میں اضافے اور بڑی مقدار میں بحری جہازوں کے ذریعے سامان بھیجنے کی مجبوری کے نتیجے میں پاکستانی چاول کے برآمدکنندگان بیرون ملک چھوٹے خریداروں سے محروم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کنٹینرز کی قلت کے باعث برآمدی آرڈرز بھی منسوخ ہو سکتے ہیں، جس سے اہم عالمی منڈیوں میں پاکستان کی تجارتی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ رکاوٹیں پاکستان کی چاول کی تجارت میں آنے والی بحالی کے لیے خطرہ بن گئی ہیں، کیونکہ گذشتہ مالی سال میں چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے چھوٹے خریدار، جو عموماً کنٹینرز کے ذریعے چاول منگواتے ہیں، بڑھتے ہوئے مال برداری کے اخراجات کے باعث مسابقت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان اخراجات نے برآمدکنندگان کو بڑے بحری جہازوں کے ذریعے سامان بھیجنے پر مجبور کر دیا ہے، جن کے لیے کہیں زیادہ مقدار میں آرڈرز درکار ہوتے ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ریپ) کے چیئرمین محمد رضا نے عرب نیوز کو بتایا ’پاکستانی چاول کے برآمدکنندگان کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی بہت سی منڈیاں ایسی تھیں جہاں چاول کنٹینرز کے ذریعے بھیجے جاتے تھے۔‘
؎انہوں نے مزید کہا ’دو ہزار، تین ہزار، پانچ ہزار، سات ہزار یا آٹھ ہزار ٹن چاول خریدنے والے تقریباً تمام چھوٹے خریدار مارکیٹ سے نکل گئے ہیں، کیونکہ مال برداری کے زیادہ اخراجات کے باعث وہ مسابقت نہیں کر سکتے۔‘
غیر یقینی معاشی بحالی
پاکستان کے ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ملک کی چاول کی برآمدات32 فیصد کم ہو کر دو ارب 29 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں یہ تین ارب 35 کروڑ ڈالر تھیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان کی چاول کی برآمدات دباؤ کا شکار تھیں۔
بحری نقل و حمل میں حالیہ رکاوٹوں نے فلپائن کے ساتھ بھی تجارت کو متاثر کیا ہے، جو پاکستانی چاول کے لیے ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہے۔
کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران فلپائن کو پاکستان کی چاول کی برآمدات بڑھ کر تقریباً 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ محض ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر تھیں۔
محمد رضا نے کہا کہ فلپائن کے لیے کنٹینرز کی دستیابی ’تقریباً صفر‘ ہو چکی ہے، جبکہ بندرگاہوں کی محدود گنجائش اور چھوٹے بحری جہازوں کی قلت کے باعث بڑی مقدار میں چاول کی ترسیل بھی مشکل ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’مجھے پورا یقین ہے کہ فلپائن کے لیے بھی بہت سے آرڈرز منسوخ ہو جائیں گے۔‘
محمد رضا کے مطابق مشرقی افریقہ کے لیے ایک کنٹینر کی مال برداری کا خرچ 800 سے 1200 ڈالر سے بڑھ کر 2400 سے 3000 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مغربی افریقہ کے لیے مال برداری کا خرچ تقریباً 2200 ڈالر سے بڑھ کر پانچ ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے۔
مال برداری کے اخراجات میں اضافے سے پاکستانی برآمدکنندگان کی پیش کردہ قیمتوں اور بیرون ملک خریداروں کی قوت خرید کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
محمد رضا نے خبردار کیا کہ اگر یہ رکاوٹیں طویل عرصے تک برقرار رہیں اور صارفین دوسرے ممالک کے چاول استعمال کرنے لگے تو پاکستانی برآمدات کو دیرپا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’اگر آج میں آپ کو پاکستانی چاول فروخت کرنا بند کر دوں اور آپ روزانہ کسی دوسرے ملک کے چاول کھانے لگیں تو بالآخر آپ اس کے ذائقے کے عادی ہو جائیں گے۔‘
ان مشکلات کے باوجود پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں چاول کی برآمدات 56 فیصد بڑھ کر 65 کروڑ 24 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ برآمدات 41 کروڑ 85 لاکھ ڈالر تھیں۔
باسمتی چاول کی برآمدات 86 فیصد اضافے کے ساتھ 27 کروڑ 63 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ غیر باسمتی چاول کی برآمدات 39 فیصد بڑھ کر 37 کروڑ 61 لاکھ ڈالر رہیں۔
محمد رضا نے چاول کی برآمدات میں بحالی کا سہرا حکومتی مراعات کو دیا، جن میں ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) سکیم بھی شامل ہے۔
اس سکیم کے تحت برآمدکنندگان کو بعض مقامی ٹیکسوں اور محصولات کے اخراجات کی تلافی میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری نقل و حمل کی صورت حال، عالمی قیمتوں اور مسابقتی ممالک میں چاول کی فصل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان رواں مالی سال چاول کی برآمدات سے حقیقت پسندانہ طور پر ڈھائی ارب سے تین ارب ڈالر تک کما سکتا ہے۔
محمد رضا نے کہا ’موجودہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے اس سال چاول کی برآمدات کا حقیقت پسندانہ ہدف ڈھائی ارب سے تین ارب ڈالر کے درمیان ہونا چاہیے۔‘
پاکستان میں چاول کی فصل کی کٹائی جاری ہے اور توقع ہے کہ نومبر کے آخر تک فصل کا بیشتر حصہ کاٹ لیا جائے گا۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق رواں سال چاول کی پیداوار ایک کروڑ ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
تاہم محمد رضا نے خبردار کیا کہ ناموافق موسمی حالات، خصوصاً ایل نینو کی شدت میں اضافہ، جس سے بارشوں میں کمی آ سکتی ہے، فصل کے لیے بدستور خطرہ ہے۔
خلیجی منڈی میں پاکستان کا حصہ
بحری نقل و حمل کے بحران نے خلیجی منڈیوں، خصوصاً سعودی عرب میں اپنا تجارتی حصہ دوبارہ بڑھانے کی پاکستان کی کوششوں کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
سعودی عرب کی چاول کی منڈی میں کم قیمتوں کے باعث انڈین چاول کو اب بھی برتری حاصل ہے۔
محمد رضا کے مطابق ایران کی جنگ سے پہلے متحدہ عرب امارات کے لیے ایک کنٹینر کی مال برداری کا خرچ تقریباً 100 ڈالر تھا، جو بحران کے عروج پر بڑھ کر 3500 ڈالر تک پہنچ گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد ازاں اس میں کچھ کمی آئی اور اب یہ خرچ تقریباً 2500 سے 2600 ڈالر کے درمیان ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دو سال کے دوران سعودی عرب کو پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات تین ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس معاہدے میں چاول کو ترجیحی برآمدی مصنوعات میں شامل کیا گیا ہے۔
محمد رضا کے مطابق سعودی عرب کی چاول کی منڈی میں پاکستان کا موجودہ حصہ تقریباً 15 سے 20 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حصے میں اضافے کے لیے وزارت تجارت کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ چاول کی ایسی نئی اقسام تیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں جو زیادہ پیداوار دینے کے ساتھ شدید گرمی اور بیماریوں کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہوں۔
محمد رضا نے کہا ’پاکستان میں چاول کی دستیابی اور فصل کے حجم کو دیکھتے ہوئے اگر ہم سعودی عرب کی منڈی میں اپنا حصہ 30 سے 35 فیصد تک بڑھا لیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔‘

