اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹرنگ پالیسی جاری، شرح سود 12 فی صد ہو گیا

گورنر اسٹیٹ بینک شرح سود کا اعلان.webp


اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹرنگ پالیسی جاری، شرح سود 12 فی صد ہو گیا

جنوری 2023 میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر صرف چند ارب ڈالر رہ گئے تھے، گورنر اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحران اور خطے میں کشیدگی کے باعث معاشی حالات تبدیل ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں شرح سود کو کم سطح پر لانے کے بجائے موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے پہلے توقع تھی کہ سال کے اختتام تک شرح سود کو 7 فیصد تک لایا جاسکے گا، تاہم اب بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث اس ہدف کے حصول میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب رہا۔ ان کے مطابق ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل بہتری آرہی ہے اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال گزشتہ چند سال کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ جنوری 2023 میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر صرف چند ارب ڈالر رہ گئے تھے، جس کے بعد ان میں بہتری بیرونی کھاتوں کے استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کے لیے حاصل ہونے والی پیش رفت برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عالمی معاشی حالات اور بیرونی مالی ضروریات کے تناظر میں ذخائر کا مستحکم رہنا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے گزشتہ مالی سال کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تین سہ ماہیوں میں معاشی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی، تاہم آخری سہ ماہی میں ترقی کی رفتار سست ہونے کے باعث سالانہ شرح نمو متاثر ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3.7 فیصد لگایا گیا تھا۔ ان کے مطابق رواں مالی سال معیشت کی ترقی کی رفتار دوبارہ بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی کہ اس سال مجموعی طور پر زرعی کارکردگی گزشتہ سال سے بہتر رہے گی۔ گنے، چاول اور مکئی کی اہم فصلوں کی پیداوار میں بہتری کا امکان ہے، تاہم کپاس کی پیداوار کے تخمینے میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

جمیل احمد کے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں استحکام اور زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافے سے معیشت کو سہارا مل رہا ہے، تاہم عالمی حالات اور خطے میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے پیش نظر مالی استحکام برقرار رکھنا اہم ہوگا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ