تل ابیب:
اسرائیل میں انتخابات جیتنا ہی حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں بلکہ کسی بھی جماعت کو پارلیمان میں اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث مختلف سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اتحاد بنانا پڑتا ہے۔
حکومت سازی کا فیصلہ کن اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے جو موزوں امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کرتے ہیں اور اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں خیال ہو کہ وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
حکومت بنانے کے لیے نامزد امیدوار کو 28 دن دیے جاتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ مزید 14 دن کی مہلت بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اگر مقررہ مدت میں اتحاد بنانے میں ناکامی ہو تو صدر کسی دوسرے رہنما کو یہ موقع دے سکتے ہیں۔
اگر دوسرا امیدوار بھی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو کنیسٹ کے ارکان صدر سے کسی تیسرے رہنما کو موقع دینے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ یہ کوشش بھی ناکام ہونے کی صورت میں ملک میں نئے انتخابات کرانا پڑسکتے ہیں۔
کسی بھی جماعت کو دو تہائی اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے اسرائیل میں حکومت سازی کا یہ پیچیدہ عمل ماضی میں سیاسی بحرانوں کو جنم دیتا رہا ہے۔ 2019 سے 2022 کے درمیان جماعتوں کے درمیان اتحاد پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ملک میں پانچ مرتبہ انتخابات ہوئے۔
2022 کے انتخابات میں بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے 120 میں سے 32 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
بعد ازاں نیتن یاہو نے کئی دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا، جس کے نتیجے میں انہیں اور ان کے اتحادیوں کو 64 نشستوں کی اکثریت حاصل ہوگئی۔
اسرائیل کا انتخابی نظام واضح کرتا ہے کہ وہاں سب سے بڑی جماعت بننا اور حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا دو الگ باتیں ہیں، اور بالآخر اقتدار کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کامیاب مذاکرات اور اتحاد پر ہوتا ہے۔

