مشرقِ وسطیٰ اس وقت اسی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف جنگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا اندیشہ پیدا کررہے ہیں اور دوسری جانب سفارتی کوششیں اس خطرناک صورت حال کو علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کی جدوجہد کررہی ہیں۔
پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں پیش رفت اور سعودی کابینہ کی جانب سے امن کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششوں کی توثیق اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ جنگ کے ماحول میں بھی مذاکرات کی اہمیت کم نہیں ہوتی، بلکہ ان کی ضرورت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطح بات چیت کو اسی وسیع تر پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے نتائج محض چند ممالک کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے سیاسی، معاشی اور تزویراتی مستقبل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت اور مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے محوری کردار کا اعتراف ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے اہم ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے ایسے راستوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے سلامتی کے تقاضوں اور سیاسی اختلافات کے درمیان توازن پیدا کیا جاسکے۔ تاہم، سفارتی حمایت کو حتمی کامیابی سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا۔
اس کی حقیقی اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب بیانات عملی اقدامات میں ڈھلیں گے، حملوں کا سلسلہ رکے گا، باہمی اعتماد بحال ہوگا اور تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں آگے بڑھیں گی۔پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال ایک غیرمعمولی سفارتی موقع بھی ہے اور ایک بڑی ذمے داری بھی۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، ترکیہ اور قطر کے ساتھ تعاون اور مسلم دنیا میں اس کی سیاسی اہمیت اسے ایسا کردار ادا کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں جو مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا ایک پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ علاقائی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ سعودی عرب پر حملوں کا خطرہ ہو، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ہوں یا خلیجی ریاستوں کو لاحق سیکیورٹی خدشات، کسی ایک محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے محاذوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائنری اور وزارتِ دفاع کو نشانہ بنانے کے دعوے، اگر آزادانہ طور پر تصدیق ہوجائیں، تو صورتِ حال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔
سعودی کابینہ کی جانب سے مقدس شہروں، ہوائی اڈوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت اسی تشویش کی عکاس ہے۔حوثیوں کے حملوں کے دعووں اور سعودی عرب کی تشویش کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ مشترکہ دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد رکن ممالک کو بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا اور ممکنہ جارحیت کے مقابلے میں مشترکہ صلاحیت پیدا کرنا ہے، لیکن کسی بھی دفاعی معاہدے کی افادیت اس کے متوازن استعمال میں پوشیدہ ہوتی ہے، اگر دفاعی اتحاد کو جنگ کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے دیا جائے تو اس کے مقاصد ہی خطرے میں پڑسکتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر مشترکہ دفاعی صلاحیت کو حملوں کی روک تھام، انٹیلی جنس کے تبادلے، فضائی حدود کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہے۔یہاں ایران کی سفارتی حکمت عملی کا سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات، جس میں خلیج کی صورتِ حال اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر گفتگو ہوئی، اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ تہران اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کو متنوع بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
ایرانی صدر کا یہ موقف کہ خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کیے بغیر اپنے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، علاقائی خودمختاری کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تصور میں اصولی طور پر وزن موجود ہے، کیونکہ خطے کے ممالک اپنے جغرافیائی، تاریخی اور معاشی مفادات کو بیرونی قوتوں کی ترجیحات سے الگ کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، علاقائی خودمختاری کا تصور اسی وقت معتبر بن سکتا ہے جب اس کے ساتھ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور جائز خدشات کا احترام بھی کیا جائے، اگر ایک ملک اپنے لیے بیرونی مداخلت سے آزادی کا مطالبہ کرے لیکن دوسرے ممالک کو عدم تحفظ سے دوچار کرنے والے اقدامات جاری رکھے تو اس کی پالیسی میں بنیادی تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے قومی و علاقائی سلامتی کے تحفظ پر زور دینا ایک مثبت سمت کی طرف اشارہ کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس سوچ کو عملی پالیسی میں تبدیل کیا جائے۔قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایران پر زور دیا جانا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے نیک نیتی کا مظاہرہ کرے، خلیجی ممالک کی تشویش کو نمایاں کرتا ہے۔ قطر نے بالخصوص دھمکی آمیز طرزِ عمل ترک کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبات محض سفارتی اصطلاحات نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹ تیل اور گیس کی قیمتوں، بیمہ اخراجات، تجارتی نقل و حمل اور عالمی منڈیوں کے اعتماد کو متاثر کرسکتی ہے۔پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ پر نرخ بڑھنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات بجلی، صنعت، زراعت، اشیائے خورونوش، مال برداری اور گھریلو اخراجات تک پہنچتے ہیں۔ مہنگی توانائی پیداواری لاگت بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ اور عام شہری کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ مشرقِ وسطیٰ میں امن پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں، بلکہ معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی مشکلات کم کرنے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق بیانات نے اس بحران میں ایک اور پیچیدگی پیدا کردی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران ایسے میزائل تیار کرچکا ہے جو یورپ تک پہنچ سکتے ہیں اور امریکا کے بعض شہروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، اس لیے انھیں ثابت شدہ حقیقت کے بجائے امریکی صدر کے بیان کردہ مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں میں سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات کی نزاکت کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ثالثی کے عمل میں غیرجانب دارانہ اعتماد، مسلسل رابطہ، واضح ترجیحات اور حقیقت پسندانہ اہداف کو بنیادی حیثیت دی جائے۔
پاکستان کو قطر، ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جن کے ذریعے حملوں کی روک تھام، شہری تنصیبات کا تحفظ، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور مذاکرات کی بحالی ممکن ہوسکے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ایک سفارتی پیش رفت کو حتمی کامیابی قرار دینے کے بجائے اس کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جاتا رہے۔مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کی قیمت صرف حکومتیں ادا نہیں کریں گی؛ عام خاندانوں، محنت کشوں، چھوٹے کاروباروں، مریضوں اور ان بچوں کو بھی بھگتنا پڑے گی جن کا تنازعات کے آغاز یا پالیسی سازی میں کوئی کردار نہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں کی بندش اور سرمایہ کاری کے اعتماد میں کمی پورے خطے کی ترقی کو برسوں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک امن کو محض ایک خوش کن نعرہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے مشترکہ مفاد اور اجتماعی بقا کی ناگزیر شرط تسلیم کریں۔
سعودی کابینہ کی جانب سے پاکستان اور قطر کے کردار کی توثیق ایک حوصلہ افزا پیش رفت ضرور ہے، مگر اصل منزل ابھی باقی ہے۔ ایران کو اپنے ہمسایوں کے خدشات دور کرنے ہوں گے، امریکا کو مذاکرات کے امکانات کھلے رکھنے ہوں گے اور خلیجی ریاستوں کو دفاعی تحفظ کے ساتھ سیاسی حل کی کوششیں بھی جاری رکھنا ہوں گی۔ پاکستان کے لیے یہی موقع ہے کہ وہ رابطوں کو نتیجہ خیز مذاکرات میں بدلنے کی اپنی کوششیں تیز کرے، کیونکہ خطے کو اس وقت طاقت کے مزید مظاہروں سے زیادہ ایسے تدبر کی ضرورت ہے جو جنگ کے راستے کو امن کی منزل میں تبدیل کرسکے۔

