واشنگٹن:
امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا غیر معمولی رجحان دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں انتخابات میں صرف 3 روز باقی رہنے کے باوجود ریکارڈ 5 کروڑ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کی صبح تک ملک بھر میں 5 کروڑ 5 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے جاچکے ہیں، جو 2022 کے گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں ہونے والی مجموعی پیشگی ووٹنگ سے تقریباً 50 لاکھ زیادہ ہیں۔
جماعتوں کے ووٹرز کی یہ تعداد صرف رجسٹریشن کی بنیاد پر ہے اور اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ ووٹرز نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ تاہم مختلف سروے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت پر عوامی عدم اطمینان اور کئی ریاستوں میں کانٹے دار مقابلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
انتخابات میں ری پبلکنز کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری کا دفاع درپیش ہے، جبکہ ڈیموکریٹس ٹیکساس، الاسکا اور کنساس جیسی روایتی طور پر ری پبلکنز کے مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں میں کامیابی حاصل کرکے سینیٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہاں ہیں۔
ٹیکساس میں اب تک 70 لاکھ سے زائد شہری پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں 15 لاکھ زیادہ ہیں۔ اسی طرح ہیوسٹن پر مشتمل ہیرس کاؤنٹی میں بدھ تک 8 لاکھ 62 ہزار 700 افراد ووٹ ڈال چکے تھے، جبکہ 2022 میں اسی وقت یہ تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 500 تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیشگی ووٹنگ میں اضافے اور سخت انتخابی مقابلوں نے کانگریس کے مستقبل کے حوالے سے ان انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔

