اسلام آباد: اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے جمعے کے روز ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔
عدالت نے صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ اور وجاہت سعید کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی۔ اسی کیس میں یوٹیوبر عادل راجہ اور حیدر مہدی کو بھی دو، دو بار عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔
فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزمان کو دیگر الزامات میں بھی 35 سال قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی اور عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، جو دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق تمام ملزمان اس وقت بیرونِ ملک مقیم ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ ان کی عدم موجودگی میں چلایا گیا۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے ڈیجیٹل مواد، بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریاستی اداروں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم قانوناً ناقابلِ برداشت ہے اور ایسے جرائم کے خلاف سخت سزائیں ناگزیر ہیں۔ فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی اور سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ ادارے بین الاقوامی قانونی راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

