(24نیوز) گرفتار صدر مدورو نے امریکی ایجنٹوں کو ‘ہیپی نیو ایئر’ کی مبارکباد دی، عین اس وقت جب وہ پڑوسی ریاست کے صدر کو نیویارک کی ایک بدنام جیل میں لے جا رہےتھے۔
ہفتے کوعلی الصبح امریکہ کے ڈیرھ سو جنگی طیاروں نے اچانک حملہ کر کے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں اپنی اقامت گاہ پر سوئے ہوئے صدر نکولس مدورو کو ان کی بیوی کے ساتھ اٹھا کر زبردستی امریکہ منتقل کر دیا تھا، نیویارک میں ہفتے کی رات (پاکستان میں اتوار کی صبح) کو صدر مدورو کو نیویارک کی ایک بدنام فیدرل جیل میں بند کرنے کے لئے لایا گیا تو وہ ہشاش بشاش اور پر اعتماد نظر آئے، انہوں نے جیل منتقل کرنے والے امریکی ایجنٹوں کو خوش مزاجی کے ساتھ ہیپی نیو ائیر کہہ کر سب کو حیران کر دیا۔
صدر نکولس مدورو نے DEA افسران کو "گڈ نائٹ” اور "ہیپی نیو ایئر” کہنےکےساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا جب انہیں ہفتے کی رات نیویارک کی ایک اعلیٰ حفاظتی جیل میں لے جایا گیا۔
صدرمدورو کو درجنوں وفاقی ایجنٹوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے اور اپنے انگوٹھے کو پکڑے ہوئے، بیڑیوں میں جکڑے ہوئے اور نیلے رنگ کی ہوڈی اور سیاہ ٹوپی سر پر اوڑھے ہوئے تصویر میں دکھایا گیا تھا۔
صدر مدورو کو ان کے اپنے دارالھکومت میں گھس کر ان کی اقامت گاہ سے اٹھا لینے کے لیے غیر معمولی کارروائی ہفتے کی صبح کی گئی۔اس فلمی طرز کے کماندو آپریشن کی تفصیلات اب پرانی ہو چکی ہیں، نئی باتیں یہ سامنے آئیں کہ مدورو نیویارک کی جیل میں دھکیلنے والوں کو ہیپی نیو ائیر کہہ رہے تھے اور کاراکس مین ان کی جگہ پر حکومت چلانے کے لئے مقرر ہونے والی نائب صدر خاتون بتا رہی ہیں کہ وینزویلا کے صدر اب بھ مدورو ہیں اور وہاں سب کچھ پہلے جیسا ہی چلے گا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر نکولس مدورو اور ان کی بیگم سیلیا فلورس، پر کاراکس مین فوجی کارروائی کے چند گھنٹوں کے اندر نیویارک میں فرد جرم عائد کر دی گئی تھی، جن پر منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردی اور مشین گن رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
صدر مدورو کو نیویارک کی ہائی سکیورٹی فیدرل جیل میں لے جا کر بند کر دیا گیا ہے۔ اب انہیں عدالت مین پیش کر کے مقدمہ چلایا جائے گا اور اسی نیویارک میں کل پیر کے روز سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہو گا جس میں صدر مدورو کے ان کے دارالحکومت سے "اغوا ” کے واقعہ کے مضمرات پر غور کیا جائے گا۔
وینزویلا کے عوام کے رہنما کو بروکلین جیل میں رکھا جا رہا ہے جو بہت خراب حالات اور قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تاریخ کے لیے بدنام ہے، جس میں گھسلین میکسویل، لوئیگی منگیون، اور ریپر شان "ڈیڈی” کومبس شامل ہیں۔
وینزویلا کے اہم اقتصادی اتحادی چین نے اتوار کے روز مسٹر مادورو کی "فوری رہائی” کا مطالبہ کرتے ہوئے اس آپریشن کو "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو یہ اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ وینزویلا کو "چلائے گا” اور اس کے تیل کے بڑے ذخائر کو اس وقت تک استعمال کرے گا جب تک کہ "اقتدار کی پرامن منتقلی” منظم نہیں ہو جاتی۔
لیکن وائٹ ہاؤس میں گلوبل میڈیا کی ہیڈلائنز بنانے والے دعووں کے بعد کاراکس میں جو کچھ سامنے آیا وہ ایسے تھا جیسے ایک حکومت کے سربراہ کے بیرون ملک دورے پر جانے کے بعد اس کی نائب عدم موجودگی میں نظام چلا رہی ہو۔
صدر مدورو کو ان کی اقامت گاہ سے اٹھا کر نیویارک کی جیل پ]ہنچانے کے کمانڈو ایکشن میں کاراکس مین چالیس کے لگ بھگ وینزویلن مارے گئے جب کہ امریکہ کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مسٹر مادورو کی گرفتاری سے پہلے ہوائی حملوں میں وینزویلا کے دارالحکومت میں اور اس کے آس پاس کے مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
نیویارک میں صدر نکولس مدورو کے امریکی ایجنٹوں کو ہیپی نیو ائیر وِش کرنے کے واقعہ پر سی این این کے وولف بلٹزر نے عجیب و غریب دعویٰ کیا کہ "ڈکٹیٹر” امریکہ کو ‘زیتون کی شاخ’ پیش کر رہا ہے اور اس نے امریکیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔
امریکی حکام کی طرف سے پوسٹ کی گئی فوٹیج میں صدر مدورو کو ایک چمکدار نیلے رنگ کی ہوڈی پہنے ہوئے دکھایا گیا- اک کے گرد درجنوں امریکی حکام موجود ہیں۔ بعد میں مدورو کو کالے رنگ کی ہوڈی پہنے، فوجی گاڑی سے لنگڑاتے ہوئے اور افسران کو ’’ہیپی نیو ایئر‘‘ کی مبارکباد دیتے ہوئے دیکھا گیا۔
مسٹر ٹرمپ کئی مہینوں سے وینزویلا پر حملہ کرنے کی دھمکی دے رہے تھے، "منشیات کی اسمگلنگ” سے نمٹنے کے لیے اس چھوٹے سے جنوبی امریکی ملک کے قریب غیر معمولی فوجی قوت کے حامل جنگی جہاز اور ہزاروں ملاح تعینات کر رہے تھے۔ انہوں نے مسٹر مدورو کی گرفتاری کا انعام بھی دگنا کرکے $50m (£37.1m) کردیا۔
مسٹر مدورو کو پکڑنے کا منصوبہ مبینہ طور پر کارروائی سے کچھ دیر قبل نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو لیک کر دیا گیا تھا لیکن اخبارات نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں کی حفاظت کے لیے حملے کی کوئی تفصیلات شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔


