راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں ہونے دے گی اور ملک کی سلامتی کا تحفظ آئین و قانون کے مطابق ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر صوبے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں اور فتنہ الخوارج کے منظورِ نظر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور خوارج کا اسلام، بلوچستان یا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف بالکل واضح ہے اور دنیا نے اس ضمن میں پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔
اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردوں کے خلاف مجموعی طور پر 75,175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14,658، بلوچستان میں 58,778 اور ملک کے دیگر حصوں میں 1,739 آپریشنز شامل ہیں۔ اس عرصے کے دوران 27 خودکش حملے اور مجموعی طور پر 5,397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 1,235 افراد نے جانیں قربان کیں جبکہ 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا اور اس پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات زیادہ کیوں ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق دوحا معاہدے کے تحت افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں اور یہ ملک خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بن چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کو بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو واضح پیغام دیا گیا اور چند گھنٹوں میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور افغان طالبان کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان ایک گروہ ہے جس نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے دس بڑے واقعات میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور غیرقانونی کان کنی سمیت دیگر عوامل بھی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت بھی جیتی جائے گی اور ریاست پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

