میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ کا بھارت کا پانچ روزہ دورہ — مودی سے ملاقات آج

IMG 20260601 WA0107


دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ — تجارت، سرحدی سلامتی اور رابطہ منصوبے ایجنڈے پر
نئی دہلی / نیپیدا | یکم جون ۲۰۲۶
میانمار کے فوجی سربراہ سے صدر بننے والے من آنگ ہلائنگ بھارت کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کریں گے جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق ملاقات کے ایجنڈے میں تجارت، سرحدی سلامتی، توانائی تعاون اور رابطہ منصوبے سرفہرست ہیں۔ بھارت کی کلادان ملٹی موڈل ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ پراجیکٹ اور بھارت-میانمار-تھائی لینڈ ٹرائی لیٹرل ہائی وے پر بھی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے حساس وقت میں ہو رہا ہے جب میانمار فروری ۲۰۲۱ء کے فوجی بغاوت کے بعد سے شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ مغربی ممالک نے میانمار کی فوجی حکومت کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی ہے تاہم بھارت نے اپنی روایتی پالیسی کے تحت مصروفیت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ نئی دہلی کا موقف ہے کہ سفارتی تعلق برقرار رکھنا ہی خطے میں استحکام کی ضمانت ہے۔
بھارت کو میانمار کی سرحد سے ملحق اپنی شمال مشرقی ریاستوں منی پور اور میزورم میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش ہے۔ ۱۶۴۳ کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کے ساتھ سرگرم عسکری تنظیموں کا معاملہ بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے کہ وہ ایسی فوجی حکومت کے سربراہ کی میزبانی کر رہا ہے جس پر انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات ہیں۔ میانمار کی جلاوطن قومی اتحاد حکومت نے بھی نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی حکومت سے اپنی سفارتی وابستگی پر نظرِ ثانی کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ حکمتِ عملی دراصل میانمار میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ نئی دہلی نہیں چاہتا کہ نیپیدا مکمل طور پر بیجنگ کی گود میں چلا جائے۔

متعلقہ پوسٹ