بوگوٹا — کولمبیا کی نئی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات کو بحال کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں ایک دو طرفہ اقتصادی کمیشن قائم کر کے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل جدت اور کولمبیائی صلاحیتوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
سرکاری بیان کے مطابق حکومت نے ایک معاشی پینل کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد "سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور کولمبیائی صلاحیتوں کے لیے نئے دروازے کھولنا” ہے۔ متوقع سرکاری دورہ بھی تجارت، جدت طرازی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر مرکوز ہوگا اور یہ ملاقاتیں نئے قائم کردہ کولمبیا-اسرائیل دو طرفہ اقتصادی کمیشن کے تحت ہوں گی۔
پس منظر: سابقہ صدر گستاوو پیٹرو کی قیادت میں کولمبیا نے مئی 2024 میں اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل کے بعد سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ پیٹرو نے تب کہا تھا کہ وہ "نسل کش حکومت” کے ساتھ تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اس کے علاوہ بوگوٹا نے جنوبی افریقہ کی طرف سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں دائر اسرائیل کے خلاف مقدمے میں مداخلت کی تھی، جسے کئی دیگر ممالک نے بھی سپورٹ کیا تھا۔
بین الاقوامی قانونی پس منظر: اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 میں جاری تنازع کے بعد سے 73,300 سے زائد فلسطینی شہید اور 174,200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے باوجود مزید حملوں میں کم از کم 1,250 فلسطینی شہید اور 4,110 زخمی ہوئے ہیں۔
حالیہ بیانات: نیا صدر گسٹاوو ڈی لا ایسپریلا، جنہوں نے جمعہ کو کالی میں حلف اٹھایا، نے پچھلے ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی اور معاشی تعلقات بحال کرے گی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں کولمبیا کی مداخلت واپس لے لے گی۔ نائب صدر ریسٹریپو نے بتایا کہ کولمبیائی حکام نے جمعہ کو اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈعون ساعر اور ایک اسرائیلی وفد سے ملاقات کی، اور اس بات چیت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے مرحلے کی شروعات قرار دیا گیا ہے۔
تاثیر اور ردِ عمل: اس اقدام سے کولمبیا اور اسرائیل کے درمیان تجارتی اور تکنیکی روابط میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے سوالات پر عالمی اور علاقائی سطح پر بحث جاری رہے گی۔

