ریاض/انقرہ/اسلام آباد — سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں تینوں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون میں اہم تبدیلی کی نمائندہ ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کی توثیق کی، حکومتوں کے مطابق یہ معاہدہ باہمی سیکورٹی کی حمایت، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، عسکری آپریشنز میں ہم آہنگی اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے کا پابند ہے۔ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بتایا گیا۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے اس معاہدے کو ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعہ کے پس منظر میں نمایاں طور پر کوریج دی۔ رائٹرز، بی بی سی، سی این این، نیو یارک ٹائمز، اے پی، فنانشیل ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت اداروں نے رپورٹ کیا کہ یہ معاہدہ اہم سنی مسلم ممالک کو یکجا کرتا ہے اور خطے میں سیکورٹی کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ اقدام بیرونی سکیورٹی انحصار کم کرنے اور علاقائی بازدارندگی قائم کرنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں یہ تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔
معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر مسلح حملہ سمجھا جائے گا تو باقی فریق اس کے خلاف مشترکہ کارروائی کے حق میں ہوں گے، مشترکہ مشقیں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی پیداوار میں تعاون شامل ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاع، بوجھ کی تقسیم اور علاقائی استحکام کو مضبوط کرے گا؛ تاہم ناقدین اس کے ممکنہ اشتعال انگیز نتائج کا ذکر کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی تفصیلات اور نفاذ کے طریقہ کار کو دیکھ رہی ہے۔ مبصرین یہ دیکھیں گے کہ معاہدہ عملی طور پر کیسے نافذ ہوتا ہے، آیا دیگر ممالک شامل ہوتے ہیں اور اس کے امریکہ، ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

