شمالی کوریا کے طاقتور رہنما Kim Jong Un کے بارے میں ایک حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنی 12 سالہ بیٹی کو ممکنہ جانشین کے طور پر آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس کے مطابق کم جونگ اُن اپنی نوعمر بیٹی Kim Ju Ae کو اہم سرکاری اور فوجی تقریبات میں ساتھ لا کر مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے جنوبی کوریا کے قانون سازوں کو بریفنگ بھی دی گئی ہے۔
بہن یا بیٹی؟ قیاس آرائیوں کا سلسلہ
گزشتہ برسوں میں جب کم جونگ اُن بعض اوقات پُراسرار طور پر منظر عام سے غائب ہوئے تو افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان دنوں ان کی بہن Kim Yo Jong کو نمایاں سرکاری ذمہ داریاں سونپی گئیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید وہ جانشین ہو سکتی ہیں۔
تاہم حالیہ مہینوں میں کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کو حساس فوجی ایونٹس، بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کے معائنوں اور قومی تقریبات میں نمایاں طور پر اپنے ساتھ رکھا ہے، جس نے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
کم جو اے کون ہیں؟
کم جو اے پہلی بار 2013 میں اس وقت خبروں میں آئیں جب امریکی باسکٹ بال کھلاڑی ڈینس روڈمین نے اپنے دورۂ شمالی کوریا کے بعد ان کا ذکر کیا۔ تاہم وہ پہلی مرتبہ 2022 میں سرکاری میڈیا پر نمایاں ہوئیں، جب وہ اپنے والد کے ہمراہ ایک میزائل معائنے کی تقریب میں شریک تھیں۔
اس کے بعد سے وہ کورین پیپلز آرمی کی تقریبات اور کم خاندان کے مقبرے Kumsusan Palace of the Sun کے دورے سمیت متعدد اہم مواقع پر دیکھی گئی ہیں۔
سرکاری اعلان نہیں، مگر اشارے نمایاں
اگرچہ کم جونگ اُن نے تاحال باضابطہ طور پر کسی جانشین کا اعلان نہیں کیا، مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیٹی کی مسلسل موجودگی اور نمایاں حیثیت علامتی اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر شمالی کوریا جیسے سخت سیاسی نظام میں۔
جنوبی کوریا کے بعض اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ محض تاثر تھا، لیکن اب صورتحال باقاعدہ نامزدگی کی سمت بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔


